خطبات محمود (جلد 29) — Page 342
$1948 342 خطبات محمود گے تو تمہیں خیال آئے گا کہ ہم ہر مسجد کے لیے الگ الگ مبلغ رکھیں۔اور جب مبلغ رکھو گے تو یہ قدرتی بات ہے کہ پھر تبلیغ بھی وسیع ہو گی۔پس آپ لوگ آج جمعہ کے بعد میٹنگ کریں جس میں یہ طے کریں کہ کون کونسی سڑکیں ایسی ہیں کہ اگر وہاں زمین مل سکے تو ہمیں زمین خرید لینی چاہیے۔وہ جگہیں ایسی ہونی چاہییں جہاں آسانی کے ساتھ شہر کے لوگ جمعہ کے لیے جمع ہوسکیں مگر آسانی سے میری مراد نسبتی آسانی ہے۔اگر کسی قدر تکلیف برداشت کر کے بھی وہاں جانا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔گو میں اس بات کا قائل نہیں کہ جمعہ ہمیشہ ایک جگہ ہونا چاہیے۔جب سے بڑے شہروں کا طریق نکلا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان میں ایک جامع مسجد کافی نہیں ہو سکتی بلکہ ضروری ہے کہ مختلف حلقوں میں الگ الگ جامع مساجد ہوں تا کہ تمام شہر کے لوگ آسانی کے ساتھ جمعہ پڑھ سکیں۔بغداد میں آٹھ لاکھ آدمی تھا اور جامع مسجد صرف ایک تھی۔نتیجہ یہ تھا کہ دو چار لاکھ آدمی تو جامع مسجد میں آجا تا اور باقی جمعہ سے محروم رہتا۔آہستہ آہستہ جمعہ ہی کی عادت جاتی رہی۔پس میرے نزدیک جو بڑے شہر ہوں اُن میں دو دو تین تین جگہ پر جمعہ ہونا چاہیے اور اسی لحاظ سے لاہور میں بھی مختلف مساجد میں جمعہ کی نماز ادا ہوسکتی ہے۔مگر یہ ابھی دور کی بات ہے۔فی الحال جو مسجد بنے گی وہ ہمارے لیے جمعہ کی نماز کے لیے کافی ہوگی۔گومیری رائے ہے کہ دو دو تین تین میل کا حلقہ ہونا چاہیے جس میں رہنے والے لوگ ایک جگہ جمعہ کے لیے اکٹھے ہو جایا کریں اور اگر ضرورت ہو تو اس میں کمی بیشی بھی کی جاسکتی ہے۔مثلاً لندن کے تمام لوگ اگر مسلمان ہو جائیں تو وہاں ہمیں پندرہ ہیں حلقے مقرر کرنے پڑیں گے۔وہاں کی آبادی استی لاکھ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ بچوں اور عورتوں کو نکال کر وہاں تھیں لاکھ نمازی ہوگا اور اُن کے لیے بہر حال پندرہ میں جگہیں چاہیں جہاں وہ جمعہ کی نماز ادا کرسکیں۔در حقیقت کسی ناممکن چیز کی امید کرنا یہ بھی قوم کے اخلاق کو بگاڑ دیتا ہے۔جس طرح بلا وجہ سہولتیں دیتے جانا بھی قوم کے اخلاق کو بگاڑنے والا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام ان دونوں باتوں کو پسند نہیں کرتا۔وہ یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ ناممکن باتوں پر زور دیا جائے کیونکہ اگر ناممکن باتوں پر زور دیا۔جائے گا تو گناہ کا رعب انسان کے دل سے مٹ جائے گا۔اسی طرح لوگوں کو بلا وجہ سہولتیں دیتے چلے جانا بھی بڑا خطرناک ہوتا ہے۔معمولی معمولی بات پر گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دینا بھی خطرناک ہوتا ہے۔اور یہ امر بھی خطر ناک ہوتا ہے کہ ناممکن بات پر زور دیا جائے اور سارے شہر کے