خطبات محمود (جلد 29) — Page 322
$1948 322 خطبات محمود بہت کم تھیں میں نے دیکھا ہے کہ معمولی سے معمولی تحریک پر دس دس پندرہ پندرہ ہزار روپیہ جمع ہو جاتا تھا۔لاہور کی جماعت کی حیثیت تو اس کی نسبت بہت زیادہ ہے۔اگر جماعت واقع میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے تو اتنی رقم دو چار گھنٹے میں اکٹھی ہو جانی چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے افراد کو جتنا کمزور سمجھا جاتا ہے اتنے ہی وہ کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔اگر انہیں کمزور نہ سمجھا جائے بلکہ مضبوط سمجھا جائے اور مضبوط آدمیوں والا ان سے کام لیا جائے تو وہ طاقتور بن سکتے ہیں۔فسادات سے پہلے لاہور میں جو زمین دس دس پندرہ پندرہ ، نہیں ہیں ہزار روپیہ فی کنال بمشکل ملتی تھی اب وہی زمین دو دو تین تین ہزار روپیہ فی کنال بآسانی مل جاتی ہے۔وہی جگہ جس کا میں سودا کرنا چاہتا تھا اس کے متعلق مجھے ایک ایجنٹ نے دو تین سال پہلے بتایا تھا کہ اس جگہ کی قیمت چودہ پندرہ ہزار روپیہ کنال ہے مگر اب میں نے اس کا سودا کرنا چاہا تو ایجنٹوں نے بتایا کہ شاید وہ زمین دو ہزار روپیہ سے زیادہ قیمت نہ حاصل کر سکے بلکہ انہوں نے بتایا کہ اس سے بہتر جگہوں پر بھی دو دو تین تین ہزار روپیہ فی کنال زمین مل جاتی ہے۔پس یہ موقع تھا جس سے اگر جماعت فائدہ اٹھاتی تو وہ بآسانی ایک وسیع مسجد کے لیے زمین خرید سکتی تھی۔موجودہ جماعت کے لحاظ سے یہ مسجد کافی نہیں۔اگر جماعت ہمت سے کام لے اور تبلیغ پر زور دے تو اتنی بڑی مسجد میں تو محلوں کی مسجدیں ہونی چاہییں۔قادیان میں کئی مسجد میں لاہور کی موجودہ مسجد سے بڑی تھیں۔دو تین مسجد میں تو یقیناً بڑی تھیں۔مسجد اقصی کے علاوہ محلہ دارالفضل کی مسجد اس سے بڑی تھی۔مسجد نور بھی اس سے بڑی تھی اور مسجد دارالفتوح بھی غالبا اس سے بڑی تھی۔ہماری جماعت بہر حال پھیلے گی اور اس کے لیے ہمیں ہر محلہ میں مسجدیں بنانی پڑیں گی اور پھر حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر محلہ میں مسجد ہو تو مسجد کی طرف لوگوں کو توجہ دلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لوگ خود بخود مسجد کی طرف آئیں گے۔جماعت اسی لیے۔ہے کہ ہر محلہ میں مسجد نہیں پائی جاتی اور لوگ اپنے گھروں میں نمازیں پڑھ لیتے ہیں۔دوسرے گھروں میں نماز پڑھنے پر لوگ کہہ دیتے ہیں جیسا اُس کا گھر ہے ویسا ہمارا گھر ہے۔چلو اپنے گھر میں ہی نماز پڑھ لیتے ہیں۔وہاں بھی نماز پڑھنی ہے اور یہاں بھی نماز ہی پڑھنی ہے۔لیکن جب ایک گھر کو خدا کی طرف منسوب کر دیا جائے تو پھر ہر ایک یہی محسوس کرتا ہے کہ اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے یہ بہتر ہے کہ خدا تعالیٰ کے گھر میں نماز پڑھی جائے۔میرا خیال ہے کہ اگر جماعت کوشش کر کے ہر محلہ میں چھوٹی