خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 321

$1948 321 خطبات محمود ربوہ میں منتقل کر دیا جائے۔اس لیے مجبوری کی وجہ سے جمعہ کی نماز جو ہم نے یہاں پڑھنی شروع کر دی تھی اِنشَاءَ اللہ اگلے جمعہ سے پھر مسجد احمدیہ میں پڑھنی شروع کر دیں گے تا ہمارے ربوہ جانے سے پہلے پہلے لوگ مسجد کی طرف جانے کے عادی ہو جائیں۔اب موسم کسی قدر اپنی سختی کھو چکا ہے اور اگر دوست نماز کے وقت باہر دھوپ میں بھی کھڑے ہو جائیں ، قریب کی گلیوں یا اردگرد کی جگہوں میں کھڑے ہو جائیں تو نماز کی خاطر ان کا یہ چند منٹ دھوپ میں کھڑا ہونا زیادہ تکلیف دہ نہیں ہوگا۔خطبہ کے وقت احباب سمٹ سمٹا کر مسجد کے اندر بھی آسکتے ہیں اور خطبہ کے بعد جہاں بھی جگہ مل سکے نماز ادا کر سکتے ہیں۔بہر حال مناسب یہی ہے کہ آئندہ نماز جمعہ مسجد احمد یہ میں ہی ہوا کرے تا لوگوں کو مسجد کی طرف توجہ پیدا ہو جائے لیکن جہاں یہ مناسب ہے کہ لوگ مسجد کی طرف توجہ کریں اور وہاں جا کر نماز با جماعت ادا کریں وہاں یہ بھی مناسب ہے کہ جماعت احمد یہ لا ہور اپنی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہوئے کوئی بڑی جگہ مسجد کے لیے تجویز کرے۔لاہور کی زیادہ جائیداد ہندوؤں کے پاس تھی ،لاہور کی زیادہ تجارت ہندوؤں کے پاس تھی، لاہور کے مال کا زیادہ حصہ ہندوؤں کے پاس تھا اور اس کے بڑے بڑے گا ہک بھی ہندو تھے۔اب ان کے چلے جانے کے بعد قیمتیں گر گئی ہیں۔یہی وقت تھا جب جماعت اپنی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہوئے مسجد کے لیے اتنی زمین خرید سکتی تھی جس میں کافی لوگ جمع ہو سکتے۔پچھلے دنوں مجھے اپنی ایک جائیداد کے سلسلہ میں چند ایجنٹوں سے ملنے کا موقع ملا اور انہوں نے بتایا کہ اب لاہور میں اچھی اچھی جگہوں پر دو ہزار روپیہ فی کنال جگہ مل جاتی ہے۔گویا جماعت لا ہورا گر چار کنال کا ٹکٹ خرید لے تو اس پر آٹھ دس ہزار روپیہ خرچ آئے گا۔جماعت لاہور میں چھ سو کے قریب افراد ہیں یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔اگر ان میں اخلاص اور جوش پایا جاتا ہو تو ان کے لیے اس رقم کا اکٹھا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔در حقیقت اتنی رقم تو ایک دن میں ہی اکٹھی ہو جانی چاہیے۔جب میں کہتا ہوں کہ جماعت لاہور کی تعداد چھ سو افراد کے قریب ہے تو اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ جماعت کے مردوں کی تعداد چھ سو ہے۔یوں تو جماعت کی تعداد تین چار ہزار کے درمیان ہے۔قادیان کے لوگ غریب تھے۔اب کچھ آبادی بڑھ گئی تھی ورنہ آٹھ نو سال پہلے قادیان کی جو احمدی آبادی تھی وہ سات آٹھ ہزار کے قریب تھی اور مرد صرف ڈیڑھ ہزار کے قریب تھے لیکن باوجود اس کے کہ جماعت غریب تھی اور ان کی آمد نہیں