خطبات محمود (جلد 29) — Page 318
$1948 318 خطبات محمود جنگ چھپیں تمہیں سال تک ہوتی ہے مگر قوموں کی جنگ لمبی ہوتی ہے اور اس کے لیے زیادہ قربانی اور ہے ایثار کی ضرورت ہوتی ہے۔ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ جماعت ایک سے لاکھوں ہوگئی ہے، ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ ہمارا دس روپے سے لاکھوں روپیہ کا بجٹ ہو گیا ہے، ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ ہماری جماعت کے افراد ادنیٰ عہدوں سے بڑے عہدوں پر پہنچ گئے ہیں، ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ ہماری جماعت کے نو جوان تعلیم میں پہلے سے زیادہ ترقی کر گئے ہیں، ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ ہمارے مشن اب ساری دنیا میں قائم ہو گئے ہیں یہ تو ایک نسبتی فتح ہے حقیقی فتح نہیں۔در حقیقت نہ ہم نے افراد میں ترقی کی ہے، نہ اموال میں ترقی کی ہے اور نہ ہی تبلیغ میں ترقی کی ہے کیونکہ ہماری ترقی نسبتی ترقی ہے۔اس لیے ہماری خوشی اور اطمینان کا موجب نہیں ہو سکتی۔ہمارے لئے خوشی اور اطمینان کا موجب نہیں ہو سکتی ہماری آخری جنگ کے دن قریب ہیں اور اس میں ہم اُس وقت تک فتح کی امید نہیں کر سکتے جب تک ہمارے نوجوان ہم سے زیادہ ایثار کا نمونہ نہ دکھا ئیں بلکہ ہم تب بھی فتح کی اُمید نہیں کر سکتے جب تک ان سے اگلی نسل بھی زیادہ ایثار کا نمونہ نہ دکھائے۔اگر کسی قوم کی کم از کم بارہ نسلیں حقیقی ایثار کا نمونہ نہیں دکھاتیں حقیقی اخلاق کا نمونہ نہیں دکھاتیں تو اُس قوم کو حقیقی فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔ہماری جماعت کے تو ابھی بچپن کے دن ہیں بڑھاپے کے دن تو ابھی دور ہیں۔ہمارے بعد نوجوانوں نے ہی اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنا ہے۔انہیں چاہیے کہ وہ اخلاص اور ایثار میں ہم سے زیادہ ہوں، علم دین میں ہم سے زیادہ ہوں، عبادت کی رغبت میں ہم سے زیادہ ہوں۔جماعت کی آئندہ ترقی کی ذمہ داری ہم پر نہیں آپ نو جوانوں پر ہے۔اس جنگ میں فتح حاصل کرنا آپ کے ذمہ ہے۔جب تک آپ ہم سے زیادہ قربانی اور ایثار کا نمونہ نہیں دکھاتے احمدیت کو فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔یا یوں کہو کہ احمدیت کو تو فتح حاصل ہوگی مگر آپ اس سے محروم رہ جائیں گے۔پس آپ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں، اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں اور قربانی اور ایثار کا وہ معیار پیش کریں جسے دیکھ کر پہلے لوگ شرمندہ ہوں بجائے اس کے کہ وہ کہیں افسوس تم ہماری اچھی نسل نہیں ہو وہ یہ کہیں کہ کاش! ہم کو بھی ایسی قربانی کی توفیق ملتی۔یہ وہ معیار ہے جس کو پورا کرنے سے احمدیت غالب آسکتی ہے"