خطبات محمود (جلد 29) — Page 247
$1948 247 خطبات محمود بہادر بنے پھرتے ہو تو خود ہی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیوں نہیں مار ڈالتے ؟ آپ نے سمجھا مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔آپ فوراً گھر سے نکل پڑے۔آپ کی طبیعت چونکہ جو شیلی تھی اس لیے گھر سے نکلتے ہی تلوار سونت لی۔آپ ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاہی رہے تھے کہ کسی نے آپ سے پوچھا عمر! کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے کہا محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو مارنے جارہا ہوں۔اس شخص نے کہا تمہاری اپنی بہن اور بہنوئی تو مسلمان ہو چکے ہیں اور تم محمد رسل اللہ کوقتل کرنے چلے ہو! حضرت عمر نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو۔اُس نے کہا نہیں۔تم خود جا کر دیکھ لو۔حضرت عمرہ واپس لوٹے اور اپنی بہن کے گھر کی طرف گئے۔آپ کی بہن اور بہنوئی نے قرآن سیکھنے کے لیے ایک صحابی کو گھر پر بلایا ہوا تھا۔پردہ ابھی نازل نہیں ہوا تھا۔پردہ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا ہے۔انہوں نے احتیاطاً دروازہ بند کیا ہوا تھا۔حضرت عمر دروازہ پر گئے اور اپنی بہن کو آواز دی۔وہ حضرت عمر کی طبیعت کو جانتی تھیں۔اس لیے انہوں نے اس صحابی کو چُھپا دیا اور آگے ایک پردہ ڈال دیا اور پھر دروازہ کھولا۔حضرت عمر نے پوچھا تم نے دروازہ کھولنے میں اتنی دیر کیوں لگائی ہے؟ انہوں نے کہا کچھ کام کر رہے تھے جس کی وجہ سے دیر لگ گئی ہے۔آپ نے کہا معلوم ہوتا ہے تمہارے ساتھ کوئی اور آدمی بھی تھا۔اور میں نے سنا ہے کہ تم صابی ہو گئے ہو۔مسلمانوں کو اُس وقت صابی کہا جاتا تھا جیسے آجکل ہمیں قادیانی کہا جاتا ہے۔حضرت عمرؓ کے بہن اور بہنوئی چونکہ ابھی ایمان چُھپانا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ٹلاواں جواب دے دیا۔حضرت عمرؓ کو جوش آگیا اور زور سے ہاتھ اُٹھا کر اپنے بہنوئی کو مارنا چاہا۔چونکہ آپ اپنے بہنوئی کو محض اسلام لانے کی وجہ سے مارنا چاہتے تھے اس لیے آپ کی بہن کو جوش آگیا اور اُس نے یہ پسند نہ کیا کہ اسلام کی وجہ سے اُس کے خاوند کو مار پڑے۔وہ گو دکر آگے آگئی اور حضرت عمرؓ اور اپنے خاوند کے درمیان حائل ہو گئی اور کہا میں تمہیں مارنے نہیں دوں گی۔اگر مارنا ہے تو مجھے مارو۔ہم ایمان ہے لا چکے ہیں۔تمہاری جو مرضی ہو کر لو۔حضرت عمر بہادر تھے اور شرافت نفس آپ کے اندر پائی جاتی تھی مگر چونکہ آپ ہاتھ اُٹھا چکے تھے اس لیے اپنے ہاتھ کو روک نہ سکے اور مگا آپ کی بہن کے ناک پر لگا جس سے خون بہنا شروع ہو گیا۔چونکہ آپ نے عربوں کے دستور کے خلاف ایک عورت پر ہاتھ اُٹھایا تھا اور پھر غیر مجرم پر ہاتھ اٹھایا تھا، اپنی بہن کا خون نکلتے دیکھ کر انہیں ندامت محسوس ہوئی اور اُنہوں نے کہا بہن ! مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔مجھے بتاؤ تو سہی کہ تم کیا پڑھ رہی تھیں؟ لیکن آپ کی بہن کو بھی غصہ تھا۔۔