خطبات محمود (جلد 29) — Page 235
$1948 235 خطبات محمود جاتی تھی۔اس رئیس کے پانچوں بیٹے اپنی تنگی تلوار میں لے کر آپ کے آگے آگے چلے اور آپ کو اپنے پیچ گھر چھوڑ آئے۔3 اس قسم کے کئی اور واقعات بھی پائے جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو آپ کی ایک بیٹی پیچھے مکہ میں رہ گئی تھی۔آپ نے اپنی بیٹی کو مدینہ بلایا اور اسے لینے کے لیے کچھ آدمی بھیجے۔جب وہ آدمی آپ کی بیٹی کو لے کر مدینہ جانے لگے تو وہ حاملہ تھیں۔کسی خبیث نے آپ کے اونٹ کی ہورج کی رسیاں کاٹ دیں جس کے نتیجہ میں وہ اونٹ سے نیچے گر پڑیں اور انہیں چوٹیں آئیں جن کی وجہ سے مدینہ جا کر آپ کا حمل بھی گر گیا اور ایک مہینہ کے بعد انہی چوٹوں کی وجہ سے آپ وفات پا گئیں۔وہ شخص بھاگتا ہوا خا نہ کعبہ میں گیا۔مکہ کے تمام سردار اور رؤساء وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔اس نے وہاں جا کر ان کے سامنے بڑے فخر کے ساتھ کہا کہ میں نے کیا ہی اچھا کام کیا ہے۔محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی زینب مدینہ جا رہی تھیں کہ میں نے اس کے ہودج کی رسیاں کاٹ دیں جس کی وجہ سے وہ اونٹ سے نیچے گر گئیں اور انہیں بہت سے چوٹیں آئیں۔اس مجلس میں ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔وہ ہندہ جس نے حضرت حمزہ کے ناک اور کان کٹوائے تھے اور آپ کا پیٹ چاک کروایا تھا۔جب اس نے یہ بات سنی تو وہ غصہ میں آکر کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی تجھے شرم نہیں آتی کہ تو نے ایک عورت پر ہاتھ اٹھایا ہے۔عرب ہمیشہ طاقتور پر ہی ہاتھ اٹھایا کرتے تھے عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے۔محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے دشمن ہی سہی مگر تو نے ان کی بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی کیسے جرات کی۔تو نے تو ہماری ناک کاٹ دی ہے۔تمہیں اپنے فعل پر شرم کرنی چاہیے اور بجائے اس کے کہ تم اپنے اس کا رنامہ کو فخریہ طور پر بیان کرو تمہیں تو کسی کو اپنا منہ بھی نہیں دکھانا چاہیے۔یہ کتنی اعلیٰ درجہ کی خوبی تھی جس کا ہندہ جیسی شدید دشمن نے اظہار ی کیا۔پس کسی کا فراور بے ایمان یا شدید سے شدید ترین دشمن کے متعلق بھی یہ خیال کر لینا کہ اس کے اندر کوئی خوبی نہیں پائی جاتی غلط ہے۔مشرقی پنجاب میں ایک ڈاکو تھا جو اپنے علاقہ میں ڈکیتی کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔لوگ اُس سے بہت خوف کھاتے تھے۔عورتیں اُس کا نام سن کر بے ہوش ہو جایا کرتی تھیں۔ہم نے اس کے متعلق اس کے گاؤں والوں سے خود سنا ہے کہ وہ غریبوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا بلکہ ہمیشہ ان کی خبر گیری