خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 15

$1948 15 خطبات محمود تھے۔ان دیوساجیوں کی رفاہ عامہ کی کوششیں بہت زیادہ تھیں اور وہ ہمیشہ خدا کے ماننے والوں پر اعتراض کیا کرتے تھے کہ تم لوگ مرنے کے بعد ایک نئی زندگی کے بھی قائل ہو اور تم خدا کے وجود پر ایمان رکھتے ہو مگر تمہاری جد و جہد بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے اتنی نہیں جتنی ہماری ہے۔یہ دلیل ان کی غلط ہو یا صیح مگر اس میں شبہ نہیں کہ وہ رفاہ عامہ کے کاموں میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔اُن کی اس جدو جہد سے یہ نتیجہ تو ضرور نکلتا ہے کہ رفاہ عامہ کے کاموں کو سرانجام دینے کے لیے خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لانا ضروری نہیں۔اور ایک شخص بغیر خدا پر ایمان لائے بھی رفاہ عامہ کے کاموں میں حصہ لے سکتا ہے۔لیکن یہ امر کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والوں کو نہ ایمان لانے والوں کی نسبت رفاہ عامہ کے کاموں میں زیادہ حصہ لینا چاہیے یہ ایک الگ بات ہے۔حصہ نہ لینے اور لے سکتے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ہر انسان ہر وقت اپنے مخاطب کو گالی بھی دے سکتا ہے اور اُس کی تعریف بھی کر سکتا ہے۔مگر ہر انسان ہر وقت نہ تو اپنے مخاطب کو گالی دیتا ہے اور نہ ہی تعریف کرتا ہے۔پس کر سکتا اور چیز ہے اور کرنا اور چیز ہے۔ہر انسان گھر سے سارا دن باہر بھی رہ سکتا ہے اور گھر کے اندر بھی رہ سکتا ہے مگر نہ تو ہر انسان چوبیس گھنٹے گھر سے باہر رہتا ہے اور نہ ہی چوبیس گھنٹے گھر کے اندر رہتا ہے۔اسی طرح ہر انسان کپڑے کی دکان کھول سکتا ہے، ہر انسان آٹے دال کی دکان کھول سکتا ہے اور ہر انسان مزدوری کر سکتا ہے، ہر انسان قلیوں کا کام کر سکتا ہے، ہر انسان لکڑیاں چیر نے کا کام کر سکتا ہے اور ہر انسان ہرکارے کا کام کر سکتا ہے۔مگر ہر انسان یہ کام کیا نہیں کرتا۔نہ تمام دنیا کے انسان ہر کارے ہیں نہ ساری دنیا کے انسان لکڑیاں چیرنے کا کام کرتے ہیں، نہ ساری دنیا کے انسان قلیوں کا کام کرتے ہیں اور نہ ہی ساری دنیا کے انسان زمیندارہ کرتے ہیں۔مگر کر سارے ہی سکتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا دعوی کرنے والے بھی رفاہِ عامہ کا کام اُسی طرح کر سکتے ہیں جس طرح کہ خدا کے مخالف۔اگر وہ نہیں کرتے تو اس کا سبب اور ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس کا سبب یہی ہے کہ ایک دہر یہ پر تو ظاہر اور باطن میں دہریت غالب ہوتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ دوسرے لوگ آسانی کے ساتھ اُس کے دام میں نہیں پھنسیں گے۔اس لیے وہ اپنے عقائد کو نافذ کرنے اور اُن کو پھیلانے کے لیے کچھ کام ایسے بھی کرتا ہے جن سے وہ دوسروں پر اپنی برتری ثابت کر سکے۔لیکن ایک نسلی مسلمان اور خدا تعالیٰ کو ماننے والا مسلمان اپنے عقیدہ کی وجہ سے اور ورثہ میں ملے ہوئے عقیدہ کی وجہ سے سُست اور غافل رہتا ہے۔