خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 150

$1948 150 خطبات محمود کہ وہ دوسرے کے عیب بیان کریں اور انہیں اس میں ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔اسی کے ماتحت الفضل کے نمائندہ نے ان باتوں کو نمایاں نہ کیا حالانکہ اترسوں کی تقریر کے بعد جب شیخ بشیر احمد صاحب نے مجھ سے کہا کہ مناسب ہے کہ اس تقریر کو ابھی شائع نہ کیا جائے اور ہمیں اصلاح کا موقع دیا جائے تو میں نے اُسی وقت پرائیویٹ سیکرٹری کو حکم دیا کہ وہ الفضل کو اس تقریر کے شائع کرنے سے روک دیں۔لیکن پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے اُس امیر کے مقولہ پر عمل کیا جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اُس کے پاس ایک فقیر نے آکر سوال کیا کہ وہ اس کو کچھ دے۔اس امیر نے لوگوں پر رعب جمانے کے لیے اپنے نوکروں کے بڑے بڑے شاندار نام رکھے ہوئے تھے نام تو مجھے یاد نہیں تاہم یوں سمجھ لو کہ اس نے آواز دی اے پکھراج ! تم یا قوت سے کہو اور اے یا قوت ! تم لعل سے کہو اور اے لعل ! تم زمرد سے کہو اور اے زمرد! تم عقیق سے کہو اور اے عقیق ! تم جوہر سے کہو اور اے جو ہر ا تم اس فقیر سے کہو (جو اُس کے سامنے کھڑا تھا) کہ میرے پاس اُس کے دینے کے لیے کچھ نہیں۔ہمارے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے بھی اسی کمرہ میں بیٹھے بیٹھے اپنے اسٹنٹ سیکرٹری کو کہا کہ تم یہ ہدایت آگے پہنچا دو۔اسٹنٹ سیکرٹری نے دوسرے اسٹنٹ سیکرٹری سے کہا۔اُس نے سپرنٹنڈنٹ سے کہا، سپرنٹنڈنٹ نے ڈسپیچر Despatcher) سے کہا۔ڈسپیچر نے دفتری سے کہنا چاہا کہ تم یہ ہدایت آگے پہنچا دو۔مگر وہ دفتری پہلے ہی کہیں پہنچا ہوا تھا۔اس طرح کا غذ دفتر میں ہی رہ گیا اور مضمون چھپ گیا۔بہر حال میں نے اس کی تردید کر دی ہے لیکن اس پر مردوں کو تو جوش نہ آیا ایک عورت کو جوش آیا ہے اور اُس کا ایک رجسٹری خط مجھے ملا ہے جس میں اُس نے بعض اعتراضات کیے ہیں۔مجھ پر تو نہیں لیکن اُس نے خاندان کا لفظ استعمال کیا ہے کسی کا نام اُس نے نہیں لکھا۔اس لیے میں نہیں کہہ سکتا کہ اُس کی مراد کس سے ہے۔البتہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح میرے اعتراضات کی وجہ بد نیتی نہیں بلکہ اصلاح تھی اسی طرح اس خاتون کے اعتراضات کی وجہ بھی بد نیتی نہیں بلکہ اصلاح ہی معلوم ہوتی ہے۔شروع میں تو اس عورت نے اپنے خاوند کی شکایت کی ہے۔اس نے اپنا نام بھی لکھا ہے۔ممکن ہے وہ نام اصلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ فرضی ہو۔اس لیے میں اُس کو ظاہر کرنا نہیں چاہتا۔بہر حال اُس نے بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے خاوند سے یہ شکایت کی تو خاوند نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ خلیفہ اسیج تو بادشاہ ہیں۔تم اُن پر کیا اعتراض کرتی ہو! اور ان کی مثال اپنے گھر میں کیوں جاری کرنا چاہتی ہو۔جہاں تک اتنے حصہ کا