خطبات محمود (جلد 29) — Page 107
$1948 107 خطبات محمود چنانچہ بعد میں اُسے بولنے کا موقع دیا گیا۔اتفاق سے پریذیڈنٹ ایک ایسے دوست تھے جو احمدیت کے مخالف رہے ہیں۔وہ شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا مرزا صاحب نے باتیں تو بڑی اچھی کہی ہیں لیکن ہاتھی کے دانت کھانے کے اور اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔اگر نماز کا انہیں اتنا ہی احساس ہے تو اب ہماری نماز ہونے والی ہے مرزا صاحب چلیں اور ہمارے پیچھے نماز پڑھ کر دکھا دیں۔غرض ایک بھی تقریر اس نے صرف اسی بات پر کی۔اُس وقت میرے دل میں بدظنی پیدا ہوئی کہ شاید پریذیڈنٹ کی مرضی اور ایماء سے یہ تقریر ہو رہی ہے۔بعد میں پریذیڈنٹ صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجھے تو رقعہ میں یہ دکھایا گیا تھا کہ میں والنٹیئر وں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر تقریر کسی اور بات پر شروع کر دی گئی ہے۔میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تقریر کرنے والے صاحب کا منشاء کیا ہے۔امام جماعت احمدیہ نے اپنی تقریر میں یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھنی چاہیے۔نماز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔اور مسجد میں بھی ہماری اپنی ہیں۔انہوں نے صرف توجہ دلائی ہے کہ تم اپنے رسول کی بات مانو اور مسجدوں میں نمازیں پڑھا کرو۔مگر یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اُن کے پیچھے نماز پڑھیں۔اگر تو انہوں نے یہ کہا ہوتا کہ مسلمانوں کو میرے پیچھے نمازیں پڑھنی چاہیں تب بھی کوئی بات تھی۔وہ کہہ سکتے تھے کہ آپ ہمارے پیچھے پڑھیں۔یا اگر کہتے کہ مسلمانوں کو احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھنی چاہیں تب بھی یہ بات ان کے منہ پر سج سکتی تھی کہ اگر ہمیں احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ بھی ہمارے پیچھے پڑھیں۔لیکن انہوں نے تو ہمارے آقا کی ایک بات ہمیں یاد دلائی ہے۔کیا ہمارا یہ کام ہے کہ ہم اپنے آقا کی بات پر عمل کریں یا یہ کام ہے کہ ہم کہیں جب تک تم ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو ہم اپنے آقا کے حکم پر بھی عمل کرنے کے لیے تیار نہیں؟ غرض اُنہوں نے اُسے خوب رگیدا اور لتاڑا۔یہی طریق ہے جو اسلامی احکام کو قائم کرنے کے لیے تمہیں اختیار کرنا چاہیے۔تم مسلمانوں سے کہو کہ ہمیں بے شک گالیاں دیجیے ہمیں بُرا بھلا کہیے۔مگر یہ حکم ہمارا نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔اس لیے ہماری خاطر نہیں بلکہ اپنے آقا اور اپنے مطاع کی خاطر اس حکم پر عمل کریں۔مگر ہم دوسروں کو کب ایسی نصیحت کر سکتے ہیں جب خود ہمارے اندر ایسے نوجوان موجود ہوں جو احکام اسلامی کے پوری طرح پابند نہ ہوں۔ہم دوسروں سے کہیں گے تو وہ فورا ہمیں جواب میں کہیں گے کہ پہلے