خطبات محمود (جلد 29) — Page 95
$1948 95 خطبات محمود فرماتے ہیں اَلصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَ لَوْ كَانَ نَبِيًّا 1 - بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔نبی تو وہ تب بنے گا جب بَلَغَ اشده 2 کے مطابق وہ ایسی عمر کو پہنچے گا جب اُس کے قوای مضبوط ہو جائیں گے، اُس کی عقل کامل ہو چکی ہوگی اور وہ نبوت کی ذمہ داریوں کو پورے طور پر سرانجام دینے کے قابل ہو جائے گا تبھی اُس پر خدا کا کلام نازل ہوگا۔لیکن اس بلوغت سے پہلے جتنی حالتیں انسان پر گزرتی ہیں وہ اس پر بھی گزریں گی۔وہ کھیلے گا بھی ، وہ کسی زمانہ میں بنگا بھی رہے گا، وہ ماں کا دودھ بھی بیٹے گا، وہ چھوٹی عمر میں غذا بھی نرم نرم استعمال کرے گا، پھر وہ چلنا پھرنا سکھے گا۔اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے اُس کے لیے پڑھائی مقدر کی ہے تو بہر حال اسے پڑھنا بھی پڑے گا۔ہاں اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء دنیا کو یہ بتانا ہو ( جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا) کہ ہم اگر چاہیں تو ایک اُمّی کو بھی اپنے پاس سے علم دے سکتے ہیں اور علم بھی ایسا کہ دنیا کے بڑے بڑے عالم اُس کے سامنے اپنی گردنیں جھکانے پر مجبور ہوں تو یہ اور بات ہے۔بہر حال طفولیت کا زمانہ بہت سے امور میں معافی چاہتا ہے۔گو وہ تربیت کا زمانہ ضرور ہوتا ہے ہم اس زمانہ میں بچے کو تربیت سے آزاد نہیں کر سکتے۔وہ لوگ جو بچوں کی غلطی پر یہ کہا کرتے ہیں کہ بچہ ہے جانے دو وہ اول درجہ کے احمق ہوتے ہیں۔وہ جانتے ہی نہیں کہ بچپن کا زمانہ ہی سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے۔اگر اس عمر میں وہ نہیں سیکھے گا تو بڑی عمر میں اُس کے لیے سیکھنا بڑا مشکل ہو جائے گا۔در حقیقت اگر ہم غور کریں تو بچپن کا زمانہ سب سے زیادہ سیکھنے کے لیے موزوں ہوتا ہے اور اسی عمر میں اس کی تربیت اسلامی اصول پر کرنی چاہیے۔پس گو بچہ بعض اعمال کے لحاظ سے معذور سمجھا جاتا ہے مگر سیکھنے کا عمدہ زمانہ اُس کی وہی عمر ہے۔جس طرح انسان پر بچپن کا زمانہ آتا ہے اِسی طرح قوموں پر بھی ایک بچپن کا زمانہ آتا ہے۔جب خدا کسی جماعت کو دنیا میں قائم کرتا ہے تو کچھ عرصہ اسے سیکھنے کا موقع دیتا ہے مگر پھر اُس پر ایک دوسرا زمانہ آتا ہے جب وہ قوم بالغ ہو جاتی ہے اور اُس پر ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں جیسے بالغوں پر عائد ہوتی ہیں۔تب بہت سی باتیں جو طفولیت میں معاف ہوتی ہیں اور غلطی ہونے پر چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے بلوغت کے زمانہ میں نہ وہ باتیں اُسے معاف ہوتی ہیں اور نہ غلطی واقع ہونے پر اُس سے چشم پوشی کا سلوک کیا جاتا ہے۔ہماری جماعت پر بھی بلوغت کا زمانہ آ رہا ہے اور خدا تعالیٰ کے فعل نے بتا دیا ہے کہ ہماری