خطبات محمود (جلد 28) — Page 68
خطبات محمود 68 سال 1947ء گا اس لئے پہلی جلد دس ساڑھے دس پاروں پر مشتمل ہوگی۔اور دوسری جلد میں بقیہ حصہ مضمون کا شائع کیا جائے گا۔ڈلہوزی میں تفسیر کبیر کے کام کے علاوہ میں نے انگریزی ترجمہ القرآن کا یباچہ بھی لکھنا شروع کر دیا تھا جو کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ختم ہو گیا ہے۔انگریزی میں اس کے 260 یا 275 کے قریب صفحات بنیں گے اور اردو میں پانچ سوساڑھے پانچ سو صفحے ہوں گے۔اس دیباچہ کے گل 1045 کالم ہیں۔اردو میں دو کالم کا ایک صفحہ بنتا ہے۔اور انگریزی قرآن کریم کا سائز چونکہ بڑا ہے دوسرے انگریزی ٹائپ میں مضمون زیادہ آ جاتا ہے اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی میں 260 یا 275 صفحے کا مضمون ہو جائے گا۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب دیباچہ کے مضمون کے آخری حصہ کا ترجمہ کر رہے ہیں اور قاضی محمد اسلم صاحب نے اس کے پہلے حصہ کا ترجمہ کیا ہے۔چودھری صاحب کو اس کام میں چونکہ مہارت ہے اس لئے امید ہے کہ وہ بقیہ کام بہت جلد ختم کر دیں گے اور آٹھ دس دن کے اندراندرد یا چہ کا ترجمہ مکمل ہو جائے گا۔ساتھ ساتھ یہ مضمون چھپتا بھی جا رہا ہے۔چنانچہ مختلف قسطوں میں پریس والوں کو مضمون بھجوایا جا چکا ہے اور باقی کے متعلق ہم ملک غلام فرید صاحب اور مولوی شیر علی صاحب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ پر لیس والوں پر زور دے کر جلدی چھپوانے کا انتظام کریں گے۔190 صفحے تک کا پیاں اُن کے پاس آچکی ہیں۔اگر وہ بقیہ مضمون کے لئے پر لیس والوں پر زور ڈالیں گے تو امید ہے کہ یہ کام جلدی ہو جائے گا۔دیباچہ کے متعلق میں نے کہہ دیا ہے کہ اس میں آیات کا عربی متن درج نہ کیا جائے انگریزی ترجمہ کافی ہے۔کیونکہ انگریزی پریس کو عربی ٹائپ کرنے کے لئے بہت دقت محسوس ہوتی ہے۔امید ہے کہ اگر ہمارے آدمی جلدی مضمون پہنچاتے جائیں اور پریس والے بھی جلدی کرنے کی کوشش کریں تو اپریل میں مجلس مشاورت کے موقع پر دوستوں کو اسکی جلدیں انشاء اللہ مل سکیں گی۔جہاں تک ترتیب و تصنیف کا کام تھا وہ تو ہوگئی۔اشاعت کا سوال ابھی باقی ہے۔یہ کتاب اتنی بڑی ہے کہ میرا خیال ہے میں چھپیں روپے سے کم میں یہ نہیں مل سکے گی۔لیکن جماعت میں سے جو صاحب حیثیت لوگ ہیں اُن کے لئے ایسی قیمتی چیز اتنی قیمت پر خریدنا کوئی مشکل نہیں۔فی الحال ہم اسکی دو ہزار جلد میں چھپوا رہے ہیں۔اس میں ایک ہزار جلد جماعت کے لئے ہے اور ایک ہزار جلد دوسرے لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے ہے۔جماعت