خطبات محمود (جلد 28) — Page 67
خطبات محمود 67 سال 1947ء تو خطبہ جمعہ یہاں مسجد میں سن لیتی ہے اور بیرونی جماعتیں اسے اخبار میں شائع ہونے کے بعد ملی پڑھ لیتی ہیں اور اس طرح جماعت کے خیالات میں اتحاد پیدا ہو جاتا ہے۔جس طرح تاگے کے ذریعہ تسبیح کے دانے اکٹھے ہو جاتے ہیں اسی طرح خطبہ جمعہ کے ذریعہ جماعت اپنے خیالات میں متحد ہو جاتی ہے اس لئے اس موقع کو میں حتی الوسع جانے نہیں دیتا۔آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ جس کا ہماری جماعت کو ایک لمبے عرصہ سے انتظار تھا اور جس میں مولوی شیر علی صاحب کی صحت کی خرابی کی وجہ سے بہت دیر ہوگئی خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو چکا ہے اور ابتدائی دس پاروں کے تفسیری نوٹ بھی چھپ کر تیار ہو گئے ہیں۔میں نے نوٹ لکھنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ جو درس میں نے دیئے ہوئے ہیں اُن سے اور ان کے علاوہ میری کتابوں سے تفسیری نوٹ لئے جائیں۔کیونکہ یہ کتاب میری ذمہ داری اور میری طرف منسوب ہو کر شائع ہو رہی ہے۔چونکہ یہ تو ضیح میری طرف منسوب ہو گی اس لئے اس کے تفسیری نوٹ بھی میرے ہی ہونے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن جن آیات کی تفسیر کی ہے وہ خود بخود اس میں آجائیگی۔کیونکہ ہم نے انہی کے نور سے روشنی لی ہے اور وہ ہمارے علوم کا منبع ہیں۔اسی طرح حضرت خلیفہ اول سے میں نے قرآن کریم پڑھا ہے۔آپ کی بیان کردہ تفسیر کے ضروری نکتے بھی اس میں آجائیں گے۔لیکن یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تفسیر کی تمام باتیں اِس میں نہیں اُسکتیں۔اسی طرح حضرت خلیفہ اول کی تفسیر کی تمام باتیں بھی اس میں نہیں آسکتیں۔نہ صرف اس وجہ سے کہ تمام کو ایک تفسیر میں بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ ہوسکتا ہے مجھے بعض مقامات پر حضرت خلیفہ اول کی کسی تفسیر سے اختلاف ہو۔یا بعد میں جو علوم ظاہر ہوئے ہیں اُنہوں نے قرآن کریم کے متعلق نئے انکشافات کا دروازہ کھول دیا ہو۔بہر حال اس موقع پر انتخاب ہی کام آ سکتا ہے ساری باتوں کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔یہ نوٹ پندرہ پاروں تک لکھے جاچکے ہیں اور ترجمہ سارے کا سارا مکمل ہو چکا ہے۔اتنی بڑی کتاب کا ایک ہی جلد میں شائع کرنا مشکل تھا اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسے دو یا تین جلدوں میں شائع کیا جائے۔چونکہ پہلی جلد کے ساتھ دیباچہ بھی لگے گا جو قرآن کریم کے مطالب کے سمجھنے کے لئے ایک مشعل راہ کا کام د-