خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 401

خطبات محمود 401 سال 1947ء بعد کاغذ یا کپڑے پر برش مارتے جاتے ہیں۔اس طرح رفتہ رفتہ اُس نظارہ کی تصویر کھینچ جاتی ہے۔اس مثال سے تم سمجھ سکتے ہو کہ تصویر کشی کے لئے دوسرے کے سامنے جانا پڑتا اور اس کو اپنی نظروں کے سامنے رکھنا پڑتا ہے۔اگر اس مثال کا سمجھنا بعض لوگوں کیلئے مشکل ہو تو فوٹو کے کیمرہ کو تو ہر شخص جانتا ہے۔گاؤں کے لوگ بھی جانتے ہیں کہ کیمرہ کے اندر فلم بھری ہوئی ہوتی ہے۔شیشہ ہوتا ہے فوٹو کھینچنے والا۔دوسرے کو سامنے بیٹھا کر کیمرہ کا منہ کھلتا اور پھر جلدی سے اسے بند کر لیتا ہے اور اس طرح اس کا فوٹو آجاتا ہے۔تم میں سے اکثر نے اس طرح اپنے فوٹو کھنچوائے ہونگے بلکہ آجکل شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جس نے بھی نہ کبھی فوٹونہ کھنچوایا ہو۔اور جسے پسند نہ ہوکہ فوٹو کھنچنے کا کیا طریق ہوتا ہے۔مصوّر کا طریق یہ ہوتا ہے کہ وہ اس شخص کو اپنے سامنے بٹھا لیتا ہے جس کی تصویر کھینچتا اس کا مقصد ہوتا ہے۔پھر اُس کی طرف غور سے دیکھتا ہے۔ناک بنانی ہو تو اس کے ناک کو دیکھے گا اور پھر کاغذ پر برش مارے گا۔چہرہ بنانا ہوتو چہرہ دیکھ دیکھ کر برش مارتا جائے گا۔جہاں نشیب دیکھتا ہے وہاں اُسی طرح کا نشیب بنا دیتا ہے۔جہاں اُبھار دیکھتا وہاں اُسی قسم کا ابھار پیدا کر دیتا ہے۔غرض وہ اس چیز کو اپنے سامنے رکھتا ہے جس کی تصویر کھینچنا چاہتا ہے۔اور فوٹو گرافر اگر کوئی فوٹو کھینچنا چاہتا ہے تو اُسے بھی دوسرے کو کیمرہ کے سامنے کھڑا کرنا پڑتا ہے۔اگر وہ سامنے کھڑا ہوگا تو اس کا فوٹو آ جائے گا اور اگر سامنے کھڑا نہیں ہوگا تو اس کا فوٹو نہیں آئے گا۔اِهْدِنَا الصَّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ‎ میں بھی مومن کو مصوّ رقرار دیا گیا ہے۔اور پہلوں کو مصور بنایا گیا ہے۔مومن اپنے دل پر تصویر کھینچتا ہے۔مگر کن لوگوں کی ؟ اُن لوگوں کی جو پہلے گزر چکے ہیں اور جو خدا تعالیٰ کے انعامات کے وارث بن چکے ہیں۔وہ دعا کرتا اور روزانہ اللہ تعالیٰ سے التجاء کرتا ہے کہ اے خدا! مجھے سیدھا راستہ دکھا۔اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔یہ امر ظاہر ہے کہ اس جگہ رستہ سے مراد کوئی ظاہری سڑک نہیں جس پر لوگ چل چکے ہوں۔بلکہ رستہ سے مراد پہلے لوگوں کا رنگ اور ان کا طور طریق ہے۔یہ مراد نہیں کہ جیسے لاہور سے امرتسر یا لاہور سے گوجرانوالہ سڑک جاتی ہے اور لوگ اُس پر سفر کرتے ہیں۔اس طرح کی کوئی سڑک اس آیت میں مراد نہیں۔بلکہ اس جگہ رستہ سے مراد پہلے بزرگوں کا طور و طریق اور اُن کا راہ عمل ہے۔اور مومن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ یہ دعا کیا کرے کہ