خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 346

خطبات محمود 346 سال 1947ء چاہتی ہیں اور خواہش رکھتی ہیں کہ انہیں آرام کرنے اور سستانے کا موقع مل جائے۔حالانکہ اس مینی دنیا میں سانس لینے کا کوئی موقع ہی نہیں جو ٹھہرے گا وہ گرے گا۔جو شخص زندگی کی حرکات کو روک دے گا وہ مرے گا۔اور جو مرے گا وہ سڑے گا۔پس ہماری جماعت کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ انفرادی اعمال ہوں یا قومی اعمال ان میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔یہاں تک کہ ہر انسان کا عمل اس کے پہلے عمل سے بہتر ہو۔اگر کسی شخص کی نماز میں کمزوری پائی جاتی ہے تو اسے دوسرے دن اپنی نماز کو بہتر بنانا چاہیئے اور تیسرے دن اس کو اور زیادہ بہتر بنانا چاہیئے۔اگر کسی کو دین کی خدمت کا موقع ملے تو اسے کوشش کرنی چاہیئے کہ دوسرے دن اسے اور زیادہ خدمت کا موقع ملے۔اور تیسرے دن اور زیادہ خدمت کرے۔اگر کسی شخص کو بنی نوع انسان کی خدمت کا موقع ملا ہے تو اسے کوشش کرنی چاہیئے کہ دوسرے دن وہ اور زیادہ خدمت کرے اور تیسرے دن پہلے دو دنوں سے بھی زیادہ بنی نوع انسان کی خدمت کرے۔اگر وہ اس حرکت کو قائم نہیں رکھے گا تو مرے گا اور جو مرے گا وہ سڑے گا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ اپنی حالت کو قائم رکھ سکے۔اسی طرح قومی زندگی اور اخلاقی زندگی کا حال ہے۔انسان کو چاہیئے کہ وہ اپنے اخلاق کو بڑھاتا رہے۔ورنہ اس میں وحشت اور درندگی پیدا ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ کی محبت کا بھی یہی حال ہے۔اگر وہ اس محبت کو نہیں بڑھائے گا تو خدا تعالیٰ کے سارے نشانات، خدا تعالیٰ کی ساری مہربانیاں اور خدا تعالیٰ کے سارے سلوک دیکھنے کے باوجود اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا نہیں ہوگی۔وہ خدا کا نام بھی لے گا۔اور اگر وہ نماز پڑھنے والا ہے تو الحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ 1 بھی کہے گا جس کے معنی یہ ہیں کہ ساری تعریفیں اُس خدا کے لئے ہیں جس نے مجھ پر بھی احسان کئے ، میرے باپ دادا پر بھی احسان کئے ، ان کے باپ داد پر بھی احسان کئے۔اسی طرح میرے رشتہ داروں ، میرے عزیزوں اور میرے اہلِ ملک پر احسان کئے۔بلکہ آدم سے لے کر اب تک دنیا کے ہر انسان پر خواہ وہ کسی حصہ زمین میں رہنے والا تھا وہ احسانات کرتا چلا آیا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ زبان سے یہی کچھ کہتا ہوگا ہی اُس کے دل میں احسان مندی کا اتنا جذ بہ بھی پیدا نہیں ہو گا جتنا ایک پیسہ کی مولیاں دینے والے کے متعلق انسانی قلب میں پیدا ہوتا ہے۔آخر تم میں سے کون شخص ایسا ہے جسے کبھی نہ کبھی کوئی تحفہ