خطبات محمود (جلد 28) — Page 15
خطبات محمود 15 سال 1947ء پر گزارہ کر رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر رنگ میں ترقی ہو رہی ہے اور جماعت دن بدن اپنے اخلاص میں ترقی کر رہی ہے۔بعض دفعہ کسی خاص نقص یا خاص خرابی کی طرف جماعت کو متوجہ کرنا پڑتا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جماعت کا قدم نیچے کی طرف آ رہا ہے بلکہ اس سے مراد صرف جماعت کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ورنہ میں دیکھتا ہوں کہ جس طرح پروانے شمع کے گرد جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جلنے میں سبقت کرتے ہیں۔اسی طرح سینکڑوں ہزاروں لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیوانہ وارفنا ہونے کو تیار ہیں۔اور جب وہ مجھے ملنے کے لئے آتے ہیں مجھے اُن کی حالت کو دیکھ کر اُن پر رشک آتا ہے۔آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، جسم کانپ رہا ہوتا ہے اور پوچھتے ہیں کہ کس گناہ کی شامت میں ہمیں قبول نہیں کیا جا رہا۔حالانکہ وہ بڑے بڑے عہدوں پر ملازم ہوتے ہیں اور بڑی بڑی تنخواہیں پاتے ہیں۔لیکن وہ اس دنیوی ترقی کو نہایت حقیر سمجھتے ہیں۔اور وہ جانتے ہیں کہ اصلی عزت خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔جس جماعت میں ایسے لوگ ہوں اللہ تعالیٰ اُس جماعت کا خود محافظ ہوتا ہے اور اُس جماعت کو آپ ترقی دیتا ہے۔لیکن دوسرا طبقہ جن کو زندگیاں وقف کرنے کی توفیق نہیں ملی اُن کو چاہیے کہ وہ مالی قربانیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور مالی قربانیاں کر کے یہ ثابت کر دیں کہ ہم مُردہ نہیں ہیں ہم میں بھی روحانیت ہے۔اور یہ بھی ثابت ہوسکتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قربانی کریں۔دوسرے دفتر دوم والوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیں اور ایک دو سال کے اندر اندر اپنے وعدے چار لاکھ تک پہنچا دیں۔اور جب چھ سال دفتر اول والوں کے ختم ہوں تو وہ ان کے بوجھ کو بغیر کسی کی مدد کے اٹھا سکیں۔جہاں تک غیرت کا سوال ہے دفتر دوم کے اخراجات کا بوجھ دفتر دوم والوں کو ہی اٹھانا چاہئیے۔دفتر اول والوں نے اپنی قربانیوں سے اپنا بوجھ خود اٹھایا اور ساتھ کچھ ریز رو فنڈ بھی قائم کیا۔کل کو یہ کتنی شرم کی بات ہوگی مجھ که دفتر دوم والے یہ کہیں کہ ہماری ضروریات بھی دفتر اول والوں کے ریز روفنڈ سے پوری کی جائیں۔کسی شاعر نے کیا عمدہ کہا ہے کہ حقا که با عقوبت دوزخ برابر است رفتن بپائ مردی ہمسایہ در بہشت