خطبات محمود (جلد 28) — Page 16
خطبات محمود 16 سال 1947ء یعنی جنت میں دوسرے کی مدد سے جانا دوزخ میں جانے کے برابر ہے۔پس کوئی غیرتمند یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ کسی دوسرے کے سہارے پر زندہ رہے۔اس لئے دفتر دوم والوں کو یہ امید نہ رکھنی چاہیے کہ ہمارا بوجھ دفتر اول والے یا دفتر سوم والے اٹھا ئیں گے۔بعض لوگ یہ حساب لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ اتنا ریز روفنڈ ہے اُس سے کمی پوری کی جاسکتی ہے۔اس قسم کے حساب لگانا ادنیٰ درجے کے آدمیوں کا کام ہے۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک شخص دوسرے آدمی سے یہ امید لگائے بیٹھا رہے کہ وہ میرا بوجھ اٹھائے گا۔تم صحابہ کو دیکھو اُن میں یہ احساس کس قدر موجزن تھا کہ ہر شخص کو اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہیئے اور کسی کا سہارا نہیں ڈھونڈ نا چاہئیے۔ایک صحابی کے متعلق آتا ہے کہ میدانِ جنگ میں عین لڑائی کے وقت اُن کا کوڑا گر گیا۔وہ گھوڑے پر سوار تھے اور فوج کولر وا ر ہے تھے۔ایک دوسرا سپاہی اِس خیال سے کہ آپ کے کام میں حرج واقع نہ ہو کوڑا اٹھانے کے لئے جھکا۔کوڑے والے نے اُسے آواز دے کر کہا کہ تجھے خدا کی قسم ہے میرا کوڑا نہ اُٹھانا میں خود اٹھاؤ نگا۔پھر وہ گھوڑے سے اُترے اور اُتر کر کوڑا اٹھایا اور گھوڑے پر سوار ہو گئے۔اور اُس شخص کو جو کوڑا اٹھانے کے لئے جھکا تھا کہنے لگے۔میں نے ی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد کیا تھا کہ میں کسی سے سوال نہیں کرونگا۔یعنی گومیں نے آپ سے سوال نہیں کیا لیکن عملی رنگ میں یہ سوال ہی تھا اور میں نے یہ برداشت نہ کیا کہ میں نے جو عہد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا وہ ٹوٹے۔میں اسے آخر دم تک نبھانا چاہتا ہوں۔یہ غیرت ہے جو انسان کو قربانیوں پر برانگیختہ کرتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا دار لوگ بھی اپنی روایتوں کو برقرار رکھنے کی انتہائی کوشش کرتے ہیں اور وہ کسی حالت میں بھی اپنے وقار پر حرف نہیں آنے دیتے اور کسی کا سہارا نہیں لیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ آپ کے دادا ایک دنیا دار آدمی تھے وہ اسی سال کی عمر میں پیچش کی مرض سے فوت ہوئے۔اُن کو بار بار قضائے حاجت کے لئے جانا پڑتا تھا۔مرنے سے ایک دو گھنٹے پہلے جبکہ وہ بہت کمزور ہو چکے تھے قضائے حاجت کے لئے اُٹھے تو نوکر نے اس خیال سے کہ کمزوری بہت ہے کہیں گر نہ جائیں آپ کا بازو پکڑ لیا۔آپ نے اُس کے ہاتھ کو پرے جھٹک کر کہا میں تمہارا سہارا نہیں لینا چاہتا۔یہ ایک دنیا دار شریف آدمی کی غیرت