خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 214

خطبات محمود 214 سال 1947ء سیبویہ کتاب کے متعلق بھی مولوی صاحب کو فرمایا کہ اس کے بعض مقامات مجھ پر حل نہیں ہوئے اس ئے آپ یہ کتاب طالب علموں کو پڑھائیں۔ایسی ایک دو اور کتابوں کے متعلق بھی حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ مولوی صاحب! آپ یہ طالب علموں کو پڑھا دیں۔اور جب مولوی صاحب طالب علموں کو پڑھاتے تو حضرت خلیفہ اول بھی سنا کرتے۔غرض مولوی صاحب نے مدرسی تعلیم کو کمال تک پہنچا دیا تھا اور قدرتی طور پر ان کا دماغ بھی فلسفیانہ تھا۔جس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا جا تا خواہ جی وہ عام مسئلہ ہی ہوتا مولوی صاحب اُسے فلسفیانہ رنگ میں خوب کھول کر بیان کرتے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ پوچھنے والے کو ان کے بیان کردہ فلسفہ سے اتفاق ہو یا نہ ہو۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی ان سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا ہو اور انہوں نے اُس کا فلسفیانہ رنگ میں جواب نہ دیا ہو۔آپ صرف یہی نہیں بیان کرتے تھے کہ فلاں نے اس کے متعلق یہ لکھا ہے اور فلاں کی اس کے متعلق یہ رائے ہے بلکہ یہ بھی بتاتے تھے کہ اس مسئلہ کی بنیاد کسی حکمت پر مبنی ہے۔اُس کے چاروں کونے خوب نمایاں کرتے تھے اور پھر اُس کی جزئیات کی بھی تشریح کرتے۔اس میں شک نہیں کہ مولوی صاحب کو لمبی بات کرنے کی عادت تھی اور وہ جذبات کو اپیل نہیں کر سکتے تھے۔اسی لئے ان کا لیکچر کا میاب نہیں سمجھا جاتا تھا۔تعلیم یافتہ طبقہ اور علم دوست طبقہ تو ان کی تقریر کو نہایت سکون کے ساتھ سنتا تھا لیکن پبلک دماغ ان کی تقریر سے متاثر نہیں ہوسکتا تھا۔صرف علمی طبقہ کے لوگ ہی جانتے تھے کہ آپ کے علم میں کتنی وسعت ہے اور کتنا تبخر آپ کو حاصل ہے۔حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے آخری ایام میں ایک وفد با ہر گیا۔اس وفد نے بعض ایسی باتیں کیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان اور آپ کے درجہ کے منافی تھیں۔چنانچہ جب وہ وفد واپس آیا تو یہ سوال میں نے اٹھایا کہ وفد کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان کے متعلق جو بیانات باہر دیئے گئے ہیں وہ آپ کی شان کے منافی ہیں اور آپ کے درجہ میں کمی کی گئی ہے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب بھی اس وفد میں شامل تھے۔جب انہوں نے اس بات کو سنا تو انہوں نے کہا واقع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں کمی کی گئی ہے اور ہم سے چوک ہوئی ہے لیکن اُس دن سے لے کر وفات تک مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام بیان کرتے تو آپ کی طبیعت میں ایک خاص قسم کا جوش پیدا ہو جاتا تھا۔یہاں تک کہ ان کی