خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 210

خطبات محمود 210 سال 1947ء کر بھیجا گیا ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں نبوت جاری ہے تو آپ اُس کے متعلق کیا خیال کریں گے؟ اُس شخص نے تو یہ خیال کیا تھا کہ میں ایک مولوی کے پاس جا رہا ہوں۔لیکن اُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں ایک مولوی کے پاس نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے پاس جا رہا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ اپنے سلسلہ کا کام لینا چاہتا ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا اس سوال کا جواب تو دعوی کرنے والے کی حالت پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس دعویٰ کا مستحق ہے یا نہیں۔اگر یہ دعویٰ کرنے والا انسان راستباز نہ ہوگا تو ہم اُسے جھوٹا کہیں گے اور اگر دعوئی کرنے والا کوئی راستباز انسان ہے تو میں یہ سمجھوں گا کہ غلطی میری ہے۔حقیقت میں نبی آ سکتا ہے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے اُس شخص نے جب میرا یہ جواب سنا تو وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا چلو جی ! ا یہ بالکل خراب ہو گئے ہیں۔اب ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے۔اس پر میں نے اُسے کہا مجھے یہ تو بتا دو کہ بات کیا تھی ؟ تو اُس نے کہا بات یہ ہے کہ آپ کے مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہوتا ہے اور میں ایک نبی کے مشابہ ہوں۔حضرت خلیفہ اول نے اُسکی یہ بات سن کر فرمایا۔بے شک مرزا صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہے۔مجھے اس پر ایمان ہے۔حضرت خلیفہ اول اُس زمانہ میں اچھی شہرت رکھتے تھے اور آپ دلیری اور بہادری کے ساتھ کام کرنے والے تھے۔اس کے علاوہ آپ بہت مخیر انسان کی تھے۔غریبوں کو تعلیم دلانے کا آپ کو بہت شوق تھا۔اور آپ غریب بیماروں کا علاج بھی مفت کرتے تھے۔اس طرح شروع شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسا ہمت والا اور عزت و شہرت رکھنے والا مددگار اور معاون عطا کر دیا جس کا ملنا محض اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کے مشہور مصنفین اور علمی طبقہ میں ایک مشہور اور معروف انسان کو آپ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی تھے۔مولوی محمد احسن صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سناتے تھے کہ میں شروع میں سخت مخالف تھا اور مولوی بشیر احمد صاحب بھوپالوی اور میں نواب صدیق حسن خاں کے ساتھ مل کر کام کیا کرتے تھے۔مولوی بشیر احمد صاحب بھوپالوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت تائید کرتے تھے۔ایک دن گفتگو کرتے کرتے یہ طے پایا کہ مرزا صاحب کی صداقت کے متعلق مباحثہ کیا جائے۔اور پہلے دونوں طرف کی کتابیں پڑھی