خطبات محمود (جلد 28) — Page 1
خطبات محمود 1 1 سال 1947ء مضافات قادیان میں تبلیغی جد و جہد (فرمودہ 10 جنوری 1947ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے جماعت کو عموماً اور جماعت قادیان کو خصوصاً تبلیغ کی طرف توجہ دلائی تھی۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس وقت تبلیغ کے لئے کوئی ایسی تنظیم نہیں کی گئی جس سے مفید نتائج نکل سکیں۔میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اگر صحیح طور پر یہ کام کیا جاتا تو اس کے بہتر نتائج نکل سکتے تھے۔دنیا میں بہت سے لوگ اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ ممکن بات وہ ہے جو فوراً ہو جائے اور جو فوراً نہ ہو سکے وہ ممکن نہیں۔حالانکہ جو چیزیں بالکل ممکن ہوتی ہیں وہ بھی ایک وقت چاہتی ہیں۔غیر مانوس خیالات اور ایسے علوم جن سے لوگ مانوس نہیں ہوتے وہ آہستہ آہستہ ہی دلوں میں داخل ہوتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ جو بات ممکن ہوا سے لوگ فورا ہی ماننے کے لئے تیار ہو جائیں۔مثلاً ساری دنیا پہاڑوں کو مانتی ہے کہ دنیا میں پہاڑ پائے جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہاں سے دس میل پر ایک پہاڑ نکل آیا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ تمام لوگ اس بات کے سنتے ہی مان جائیں گے؟ نہیں بلکہ پہلے اُس کو دیکھنے کی کوشش کریں گے۔پہلے اس کو ایک دو آدمی دیکھنے کے لئے جائیں گے پھر پانچ دس دیکھنے کے لئے جائیں گے، پھر پندرہ بیس دیکھنے کے لئے جائیں گے اور جب یہ لوگ آکر بیان کریں گے کہ واقع میں فلاں جگہ پہاڑ ہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ لوگ بھی جنہوں نے پہاڑ نہیں دیکھا ہو گا مان جائیں گے۔ہم میں سے ہر ایک نے لندن نہیں دیکھا، ہم میں سے ہر ایک نے یورپ نہیں دیکھا ، ہم