خطبات محمود (جلد 28) — Page 83
خطبات محمود 83 سال 1947ء جائیگا۔روزہ رکھنے سے انسان کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔روحانی اصلاح کے لئے روزہ بہت ہی مفید چیز ہے۔پھر دعاؤں کی قبولیت کا ایک خاص ذریعہ ہے۔اور جو شخص دعا کرنے کا عادی نہ بھی ہو وہ با قاعدگی کے ساتھ دعا کرنے لگ جاتا ہے۔پس روزے رکھو اور با قاعدگی کے ساتھ دعائیں جاری رکھو تا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح سے ہمارے ملک کے قلوب کی حالت کو بدل دے۔ہمارے پاس سیاسی طاقت تو ہے نہیں کہ کسی پر دباؤ ڈال سکیں۔لیکن ایک چیز ہمارے پاس ایسی ہے جو کہ دوسرے لوگوں کے پاس نہیں اور وہ دعا کا حربہ ہے۔یہ حربہ تمام حربوں سے زیادہ طاقت اور شوکت رکھتا ہے۔قصہ مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی بزرگ تھا۔اُس کی یہ عادت تھی کہ وہ رات کے وقت اپنے دوستوں اور عزیزوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ کے احکام سناتا اور انہیں وعظ و نصیحت کرتا۔اُس کے ساتھ ہی ایک امیر کا مکان تھا جو کہ ناچ اور گانے کا بہت شائق تھا۔جب وہ بزرگ دوسروں کے ساتھ مل کر دعا اور ذکر الہی میں مشغول ہوتا تو اُس کے ساتھ کے گھر سے گانے اور باجے کی زور زور سے آواز بلند ہوتی اور ان لوگوں کی عبادت میں خلل پڑ جاتا۔اس پر لوگوں نے اُس امیر کوی سمجھایا کہ ایسا نہ کیا کرو۔لیکن چونکہ وہ بادشاہ کے خاص آدمیوں میں سے تھا اس لئے اپنے غرور کی وجہ سے وہ کسی کی بات ماننے کو تیار نہ ہوا۔آخر پھر محلہ والوں نے زور دیا کہ اگر اب بھی تم نے کی ہماری عبادت میں خلل ڈالا تو ہم تمہارے ساتھ نہایت سختی کے ساتھ پیش آئیں گے۔جب اُس نے لوگوں کے جوش کو دیکھا تو وہ بادشاہ کے پاس گیا اور بادشاہ سے کہا کہ میری حفاظت کے لئے ایک دستہ فوج کا دیا جائے۔بادشاہ نے اُس کی بات مان لی اور حکم دے دیا کہ ایک دستہ فوج کا اُس کے گھر پر پہرہ دینے کے لئے متعین کر دیا جائے۔جب اُسے اطمینان ہو گیا کہ اب فوج کا ایک دستہ میری حفاظت کے لئے پہنچ جائے گا تو اُس نے واپس آکر اُس بزرگ کو بلایا اور بڑے تکبر کے ساتھ کہا۔میری حفاظت کے لئے فوج کا ایک دستہ بادشاہ نے مقرر کر دیا ہے اب میں پہلے کی نسبت زیادہ ناچ اور گانے کا شغل کروں گا۔اب دیکھوں گا کہ آپ کیا کرتے ہیں۔اُس بزرگ نے جواب دیا کرنا کیا ہے ہم اُس دستے کا مقابلہ کریں گے۔اُس نے کہا۔آپ عقل مند آدمی ہیں ، آپ غور تو کریں کہ آپ نہتے ہو کر شاہی فوج کا مقابلہ کر سکتے ہیں ؟ آخر کونسا ہتھیار