خطبات محمود (جلد 28) — Page 77
خطبات محمود 77 سال 1947ء دل سے ڈر نکل جائے تو صداقت کو قبول کرنا آسان ہوتا ہے۔پس تبلیغ کرتے ہوئے اس خیال کو دل سے نکال دو کہ سننے والا تمہاری بات مانتا ہے یا نہیں۔تمہارا کام ہے کہ تم صداقت اُس تک پہنچا دو۔پھر ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔دفتر بیعت والوں کی طرف سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ مارچ 1945 ء سے لے کر اب تک دو سالوں میں سب سے زیادہ بیعتیں مارچ 1945ء میں ہوئی تھیں۔مارچ کا مہینہ 31 دن کا ہوتا ہے۔لیکن اس سال فروری میں جو کہ اٹھائیس دن ނ کا ہے اس سے بہت زیادہ بیعتیں ہوئی ہیں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل - جماعت میں تبلیغ کرنے کی رو پیدا ہو رہی ہے اور جماعت اس اہم فریضہ کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔گو بیعتوں کی موجودہ تعداد سے ہزاروں گنے زیادہ بیعتیں ہر سال ہونی چاہئیں۔اور میرے نزدیک کم از کم چھپیں تھیں ہزار آدمی روزانہ ہماری جماعت میں داخل ہونا چاہیئے۔اگر اتنی تعداد میں لوگ شامل ہونا شروع ہو جائیں تو پھر ہم دنیا کو بہت جلد فتح کر سکتے ہیں۔بہر حال دنیا صداقت کو قبول کر رہی ہے اور جماعت کا قدم ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔اور اب جماعت کو اپنی تبلیغ کے نتائج سے یہ محسوس ہو جائے گا کہ دراصل سستی ہماری ہی تھی ورنہ لوگ ماننے کو تیار تھے۔جہاں اللہ تعالیٰ جماعت پر اپنا فضل نازل کر رہا ہے اور زیادہ لوگوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دے رہا ہے وہاں جماعت کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہیئے کہ ہماری رائے غلط تھی۔دراصل ہمارے اندر ایسی دیوانگی اور جنون نہ تھا جو کہ لوگوں کو احمدیت کی طرف کھینچ لاتا۔دوستوں کو ہمیشہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہیئے کہ تمام قیمتی نتائج ایمان سے پیدا ہوتے ہیں۔جب تک ایمان کا درخت ہرا بھرا اور مضبوط نہیں ہوتا اُس وقت تک ہم اس سے کسی قسم کے پھل حاصل نہیں کر سکتے۔جب تک تم میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ایمان تمام چیزوں سے قیمتی چیز ہے۔جب تک تم اپنے ایمان کو اپنی جانوں پر ، اپنے مالوں پر، اپنی بیویوں پر، اپنے بچوں پر اپنے بھائیوں پر ، اپنی بہنوں پر اور اپنے دوسرے رشتہ داروں پر فوقیت نہیں دیتے۔جب تک تم ایمان کو ہر چیز پر مقدم نہیں رکھتے اُس وقت تک تمہارے اندر تبلیغ کا جوش پیدا نہیں ہو سکتا۔لیکن جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ایمان ہر چیز پر مقدم ہے تو یہ جذ بہ اُس کے اندر تبلیغ کے لئے جوش پیدا کر دیتا ہے۔کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اُس کے پاس تو اتنی قیمتی اور اعلیٰ نعمت ہو لیکن اُس