خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 53

خطبات محمود 53 سال 1947ء کھاتے ہیں اور پنجاب کے لوگ دن میں دو دفعہ کھاتے ہیں اور شہروں والے شہروں کے دستور کے مطابق تین چار دفعہ کھاتے ہیں اور یورپ کے لوگ اپنے رواج کے مطابق دن میں پانچ دفعہ کھاتے ہیں۔لیکن کسی شخص کو ذرا بھی گھبراہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ ہمیں دن میں چار پانچ دفعہ کھانا پڑتا ہے اور ہمیں کم کھانا چاہیئے۔بلکہ جن کو کھانے کے لئے تھوڑا ملتا ہے وہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں زیادہ کیوں نہیں ملتا۔جب انسان کئی کام روزانہ کرتا چلا جاتا ہے تو وہ ایک دوسرے اہم کام کے متعلق یہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ہم سے یہ روزانہ نہیں ہوسکتا۔وہ نمازوں کے متعلق کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں روزانہ نماز نہیں پڑھ سکتا۔جب وہ یہ کہتا ہے تو وہ اپنے قول کی آپ تردید کر رہا ہوتا ہے۔وہ روزانہ سوتا ہے ، وہ روزانہ کھاتا ہے۔جب وہ یہ کام روزانہ کر سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ روزانہ نماز نہیں ادا کر سکتا۔پھر بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں۔وہ کام ہر وقت ہی ہم کرتے رہتے ہیں۔جیسے دیکھنا سننا، بولنا وغیرہ۔انسان ہر وقت سنتا ہے، ہر وقت دیکھتا ہے، اور دو دو منٹ ، چار چار منٹ ، اور دس دس منٹ کے بعد باتیں کرتا ہے۔لیکن کوئی شخص یہ شکایت نہیں کرتا کہ یہ کیا عذاب آ گیا ہے کہ ہم ہر وقت ہی سن رہے ہیں۔کوئی ہے شخص یہ شکایت نہیں کرتا کہ بڑی آفت آگئی کہ ہم ہر وقت ہی دیکھ رہے ہیں۔کوئی یہ شکایت نہیں کرتا کہ بڑی آفت آگئی ہے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہمیں بولنا پڑتا ہے۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان چیزوں کو عیب نہیں سمجھتا بلکہ خوبی سمجھتا ہے۔اور اگر کوئی شخص ہر وقت نہ دیکھ سکے تو تھی لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اندھا ہو گیا ہے۔اور اگر کوئی شخص سننے سے معذور ہو جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص بہرہ ہو گیا ہے۔اور اگر کوئی شخص بول نہ سکے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص گونگا ہو گیا۔اور اگر کسی میں لمس کی طاقت نہ رہے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص مفلوج ہو گیا۔اور تمام لوگ ان حالتوں کو بُرا سمجھتے ہیں اور کوئی شخص بھی ان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔جس طرح لوگ ہر وقت کے دیکھنے، سننے اور بولنے کو اچھا سمجھتے ہیں اسی طرح اگر ہماری جماعت میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ تبلیغ اچھی چیز ہے تو اس کے دلوں سے یہ خیال نکل جائے کہ ہر وقت تبلیغ ہو نہیں سکتی۔اور جس طرح وہ ہر وقت سنے، دیکھنے اور بولنے کو ضروری سمجھتی ہے اسی طرح وہ تبلیغی کو بھی ضروری سمجھنے لگ جائے۔اور وہ کبھی بھی یہ خیال دل میں نہ لائے کہ ہر وقت تبلیغ نہیں ہو سکتی۔