خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 52

خطبات محمود 52 سال 1947ء ایک ہی دن میں آگئے اور وہ کمی پوری ہو گئی۔اب اس وقت تک دولا کھ ساٹھ ہزار کے وعدے آچکے ہیں اور ابھی بہت سے فوجیوں اور دوسرے علاقوں کے وعدے باقی ہیں۔اسی طرح دفتر دوم کے سال سوم میں بھی پہلے کی نسبت ترقی ہے۔نوے ہزار کے وعدے اس وقت تک آچکے ہیں۔اور ابھی بہت سا حصہ باقی ہے اور بیرون ہند کے وعدے بھی باقی ہیں۔اب ہمیں امید ہے کہ دونوں دفتروں کے وعدے اپنے اپنے وقت پر پچھلے سال کی نسبت بڑھ جائیں گے۔جب میں نے اعلان کیا تھا اُس وقت گزشتہ سال کی نسبت اُس تاریخ تک صرف دوسوروپے کا فرق تھا لیکن اب وہ فرق قریباً بیس ہزار روپے کا ہو گیا ہے۔دوسری بات جس پر میں اظہار خوشنودی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا اظہار کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس سال جماعت میں کسی قدر تبلیغ کے متعلق بھی بیداری پیدا ہوئی ہے اور جماعت نے تبلیغ این کے لئے جو جد و جہد کی ہے اُس کے خوشکن نتائج نکل رہے ہیں۔اس وقت تک یعنی 14 فروری تک جو بیعتیں ہوئی ہیں وہ پچھلے سال کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔اور اتنی بیعتیں پچھلے سال کسی مہینے میں نہیں ہوئی تھیں۔اگر جماعت متواتر اپنے فرض کو سمجھے اور جماعت کے لئے اس فرض کے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو غیر معمولی ترقی حاصل ہونی شروع ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں سبق دینے کے لئے کچھ کام ہمارے ساتھ لگا دیئے ہیں۔ان میں سے کچھ کام ایسے ہیں جو ہم روزانہ کرتے ہیں۔کچھ کام ایسے ہیں جو ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔کچھ کام ایسے ہیں جو سارا دن نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کاموں کو ہمارے ساتھ لگا کر ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ اہم اور ضروری کاموں کو ہمیشہ جاری رکھنا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔جب تم اپنے طبعی تقاضوں کو بغیر بوجھ کے روزانہ اور بلا ناغہ ادا کر تے ہو تو کیا وجہ ہے کہ اس سے اہم فرائض جو کہ تمہاری روحانی زندگی کا موجب ہیں تم اُن کے سرانجام دینے میں سستی اور غفلت سے کام لیتے ہو۔ہم میں سے ہر شخص روزانہ سوتا ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ اُسے روزانہ سونا پڑتا ہے وہ گھبرا تا نہیں کہ کیا مصیبت مجھ پر آ گئی۔اسی طرح ہم میں سے ہر شخص اپنے ملکی رواج کے مطابق ہر روز کھانا کھاتا ہے۔مثلاً پوربی 1 لوگ عام طور پر دن میں ایک دفعہ۔