خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 36

خطبات محمود 36 سال 1947ء جائیدادوں کو ترک کر کے قادیان میں بس رہے ہیں اور بسنا چاہتے ہیں۔دنیا میں امیر بھی ہوتے ہیں اور غریب بھی ہوتے ہیں۔وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہزاروں ہزار روپیہ خرچ کر کے زمینیں خرید سکتے اور اپنی رہائش کے لئے مکانات بنا سکتے ہیں۔اور وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہزاروں روپیہ خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔وہ چاہتے ہیں کہ سینکڑوں میں ہی وہ زمین بھی خرید لیں اور مکان بھی بنا سکیں۔اگر سینکڑوں تک وہ مکان وغیرہ بنا سکیں تب تو وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔ور نہ نہیں۔دنیا میں کوئی شہر بھی خالص امراء کا شہر نہیں ہوتا۔یورپ کے شہروں میں امراء بھی ہوتے ہیں اور غرباء بھی ہوتے ہیں۔اور دینی سلسلوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ اُس میں غرباء کی ہی کثرت ہوتی ہے۔بالخصوص اُس کے ابتدائی ایام میں۔اور قادیان کی زیادتی اور بڑھوتی میں بھی غرباء کا ہی ہاتھ رہا ہے۔اور آئندہ بھی خواہ قادیان کتنا بڑھ جائے اس کی آبادی زیادہ تر غرباء کی ہی ہو گی۔مگر قادیان میں زمین کی قیمتیں اس طرح بڑھتی چلی جاتی ہیں کہ اب غرباء کے لئے قادیان میں بسنا سخت مشکل ہو گیا ہے۔اگر تو یہ طبعی ترقی ہوتی تب بھی ہمارا فرض تھا کہ ہم اسکی اصلاح کی کوشش کرتے مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ طبعی ترقی نہیں بلکہ بناوٹی ترقی ہے اور زمین کی قیمتیں اتنی ہر گز نہیں بڑھنی چاہئے تھیں جتنی قیمتیں بڑھ گئی ہیں تو ہمیں زیادہ افسوس اور دکھ ہوتا ہے۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ قادیان کی ترقی کے راستہ میں وہ لوگ یقیناً حائل ہو رہے ہیں جنہوں نے قادیان میں زمینوں کی خرید و فروخت کا کام شروع کیا ہوا ہے۔کہتے ہیں خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔اسی طرح لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ نیک نمونہ دوسروں پر اثر کئے بغیر نہیں رہتا۔پھر میں حیران ہوں کہ ہمارے نمونہ سے لوگوں نے کیوں فائدہ نہ اٹھایا۔قادیان کے مالک ہم تھے۔زمینیں ہمارے قبضہ میں تھیں۔اگر ہم بھی اسی طرح قیمتیں بڑھاتے چلے جاتے تو بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے تھے۔جیسا کہ بعض لوگ جن کے پاس ہمار مقابلہ میں بیسواں حصہ بھی زمین نہیں اُنہوں نے ہم سے دگنی دگنی قیمت اس بیسویں یا پچاسویں حصہ کو فروخت کر کے وصول کر لی ہے۔دارالا نوار کو ہی دیکھ لو۔دارالا نوار میں ہم نے آج سے دس سال پہلے دس روپیہ مرلہ زمین فروخت کی تھی۔بعض نے کہا بھی کہ یہ قیمتیں کم ہیں زیادہ قیمت کی رکھنی چاہئیے۔مگر ہم نے کہا ہمارا منشاء یہ ہے کہ قادیان بڑھے اور ترقی کرے ہمیں ذاتی نفع کا