خطبات محمود (جلد 28) — Page 35
خطبات محمود 35 سال 1947ء کا قلب امیدوں سے لبریز ہو جاتا ہے۔اور وہ سمجھتا ہے کہ میں نے آج ایک ایسی بنیاد رکھ دی ہے جس سے میرا اور میرے خاندان کا سال بھر کا خرچ چلتا چلا جائیگا۔اگر ایک ایسا زمیندار جو بعض دفعہ خدا کو بھی نہیں جانتا، مذہب کو بھی نہیں جانتا ، اخلاق کو بھی نہیں جانتا د نیوی قانون پر ایسا یقین رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میرا پیج ضائع نہیں جائیگا تو وہ مومن کیسا مومن ہے جو خیال کرتا ہے کہ خدا کے حکم اور اُس کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت جو بیج میں اپنی کھیتی میں ڈالوں گا وہ ضائع چلا ہے جائیگا اور وہ وہ در دنیا اور ستر در آخرت بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر مجھے واپس نہیں ملے گا۔پس میں اختصاراً آج پھر جماعت کو اُس کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خدمت دین کے اس موقع کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔بلکہ جلد سے جلد اعلاء کلمہ اسلام کے لئے اپنے وعدے پیش کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جائیں تا وہ اور اُن کی اولادیں اُس کھیت کو کاٹتی چلی جائیں جو آج ان کے ہاتھوں۔بویا جائیگا۔اس کے بعد میں قادیان کی ایک مقامی ضرورت کے متعلق کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قادیان میں رہائش کی دقتیں لوگوں کے لئے بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ایک طرف اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ قادیان کی ترقی ہوگی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہے کہ قادیان بڑھتے بڑھتے دریائے بیاس تک پہنچ جائیگا۔1- یہ نظارہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کی ترقی کے متعلق دیکھا اس کے متعلق یہ ضروری نہیں کہ قادیان کی ترقی کا سارا نظارہ آپ کو دکھا دیا گیا ہو۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اس سے کم قادیان کی ترقی نہ ہو۔اگر زیادہ ہو جائے تو وہ اس پیشگوئی میں کوئی حارج نہیں ہوگی بلکہ اس کی شان اور عظمت کو بڑھانے والی ہو گی۔پس یہ خواب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا اس کے یہ معنی نہیں کہ اُس سے آگے قادیان نہیں بڑھے گا۔ممکن ہے کسی وقت قادیان اتنا ترقی کر جائے کہ دریائے بیاس قادیان کے اندر بہنے والا ایک نالا بن جائے اور قادیان کی آبادی دریائے بیاس سے آگے ہوشیار پور کے ضلع کی طرف نکل جائے۔بہر حال اس پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے جماعت کے مخلصین اپنے وطنوں کو خیر باد کہہ کر اور اپنی