خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 380

خطبات محمود 380 سال 1947ء شامل کر لیا جائے تو فی کس جماعت لاہور نے صرف تین آنے چندہ دیا ہے۔اور پھر آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اتنا چندہ دے کر آپ لوگوں نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے۔اور اگر عورتوں اور بچوں کو نکال کر صرف کمانے والے افرادر کھے جائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ آپ لوگوں نے بارہ آنے فی کس چندہ دیا ہے۔گویا آپ لوگوں کے کمانے والوں کی اوسط آمدن بارہ روپیہ ماہوار ہے اور اسی بارہ روپیہ میں آپ لوگ اپنے پانچ پانچ سات سات افراد کو کھلاتے پلاتے ہیں، مکان کا کرایہ وغیرہ ادا کرتے ہیں۔ہمیں تو یہاں کلرکوں کی ضرورت تھی۔اگر بارہ روپے ماہوار پر یہاں لوگ کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو ہم تو بڑی آسانی کے ساتھ دس بارہ کلرک رکھ لیتے ہیں۔پھر اس وقت جب ابھی جماعت پر مصائب اور ابتلاء نہیں آئے تو آپ لوگوں کا اپنا جو اقرار تھا اُس کے لحاظ سے مئی سے اب تک جماعت لاہور کے چندوں میں دس ہزار کی کمی ہے اور اس میں ابھی تحریک جدید شامل نہیں ، حفاظت مرکز شامل نہیں ، مرکز پاکستان کا چندہ شامل نہیں۔اگر اُن کو بھی شامل کر لیا جائے تو ہیں ہزار روپے کی کمی ہے جو گزشتہ چھ ماہ میں واقع ہوئی ہے۔اگر ایک مرکزی جماعت ، ایک شہری جماعت جس کا ہر فرد تعلیم یافتہ ہے اور جہاں کا ہر فرد اوی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہے۔اور جہاں کا ہر شخص لیگ وغیرہ کے نعرے سنتا اور اُن کا کچھ جوش و خروش دیکھتا رہتا ہے۔اُس جماعت کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا 1/10 حصہ ادا کرتے ہیں تو دوسروں کا کیا حال ہو سکتا ہے۔مجھے گزشتہ دنوں یہاں کے امیر صاحب نے کہا کہ آپ یہ تو دیکھیں کہ جماعت لاہور کے پچاسی فیصدی لوگ ملازم ہیں۔اگر یہ پچاسی فیصدی لوگ ملا زمت چھوڑ کر حفاظت مرکز کے لئے چلے جائیں تو چندے بند ہو جائیں اور سلسلہ پر مالی لحاظ سے سخت بوجھ پڑ جائے۔لیکن جب مالی قربانی دیکھی گئی تو معلوم ہوا کہ جماعت لا ہور اپنی ذمہ داری کا صرف 1/50 حصہ ادا کر رہی ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہاں کی ساری جماعت حفاظت مرکز کے لئے چلی جاتی اور صرف چار آدمی کی طور پر چندہ دینے والے ہوتے تو جماعت لاہور کے موجودہ چندہ میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی۔مثلاً اگر صرف چار شخص یہاں رہ جاتے جن کی بارہ تیرہ سو روپیہ آمد ہوتی اور وہ اخلاص سے پچاس فیصدی چندہ دیتے تو بائیس سو روپیہ صرف چار آدمی کی طرف سے آ سکتا تھا۔مگرا