خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 355

خطبات محمود 355 (38) سال 1947ء ہمیں نئے حالات میں نئے جوش اور نئے ولولہ سے کام کرنا چاہیے فرمود 240 را کتوبر1947ء بمقام لاہور ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے تمام دنیا سے زیادہ قابلیت بخشی ہے اور اس میں کائنات کے تمام اقسام کے جو ہر اس میں بھر دیئے ہیں۔اس میں نباتات کی خاصیتیں بھی ہیں ، اس میں حیوانات کی خاصیتیں بھی ہیں اور اس میں جمادات کی خاصیتیں بھی تھی ہیں ، کبھی وہ اپنے استقلال اور عزم میں اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ چٹان سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ انجیل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق انہی الفاظ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ وہ کونے کا پتھر ہو گا۔جس پر وہ گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا اور جو اس پر گھرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا 1۔چونکہ کونے پر بوجھ زیادہ ہوتا ہے اور عمارت کی مضبوطی کو نے کی مضبوطی پر منحصر ہوتی ہے اس لئے وہاں چن کر مضبوط پتھر لگایا جاتا ہے۔پس کونے کے پتھر کے معنی مضبوط پتھر کے ہیں۔اور حضرت مسیح علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ کونے کا پتھر ہو گا۔جس پر وہ گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا۔اور جو اس پر گرے گا وہ بھی چکنا چھ رہو جائے گا پھر انسان کے اندر نباتی صفات بھی پائی جاتی ہیں۔اور نباتی صفات کے سلسلہ میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ 2۔اچھا درخت وہ ہوتا ہے جس کی جڑیں پاتال تک چلی جاتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان تک پھیل جاتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے اندر یہ قابلیت بھی پائی جاتی