خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 316

خطبات محمود 316 سال 1947ء ہمارے جیسا ناک، ہمارے جیسے کان اور ہمارے جیسا دل رکھنے کے باوجود بالکل بے کس اور بے بس ہوتی ہے۔اسی طرح ہم بھی انگریزوں جیسے ہاتھ ، انگریزوں جیسے پاؤں ، انگریزوں جیسے سر، انگریزوں جیسے دماغ ، انگریزوں جیسے ناک اور کان رکھنے کے باوجود بالکل بے کس اور بے بس تھے۔کیونکہ ہمارے ہاتھ اور ہمارے پاؤں اور ہمارے دل اور ہمارے دماغ اور ہمارے باقی اعضاء کو کام کرنے کی عادت نہیں ڈالی گئی تھی اور ہم نے اُن خطرات میں اپنے آپ کو نہیں ڈالا تھا جن خطرات میں اپنے آپ کو اب ڈالا ہوا ہے۔پس یہی مصیبت ہمارے لئے رحمت کا ذریعہ بن سکتی ہے اگر ہم اسے رحمت کا ذریعہ بنالیں۔جیسے طالب علم کا لج میں جاتا ہے تو اسے نئے نئے علوم پڑھنے پڑتے ہیں۔اسی طرح یہ جماعت ایسی ہے جس میں ہندوستانی ابھی داخل نہیں ہوئے تھے۔خدا نے انہیں اس جماعت میں داخل کر دیا ہے۔اور داخل بھی ایسے رنگ میں کیا ہے جیسے کہتے ہیں ”سرمنڈواتے ہی اولے پڑے لوگوں کو یہ سبق آہستہ آہستہ ملا مگر ہم کو فورا مل گیا۔گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک قرضہ تھا جو ہمیں فوراً واپس کرنا پڑا۔ہر غیر طبعی امن والا سال جو ہم پر گزرا ہے ، ہر غیر انسانیت والا سال جو ہم پر گزرا، ہر غیر شعوری سال جو ہم پر گزرا اس کے مقابلے میں اتنے ہی فکر اور اتنی ہی بلائیں اور اتنی ہی مصیبتیں خدا تعالیٰ ہمارے کھاتے میں ڈالتا جاتا تھا۔اور کہتا تھا کہ ہم تمہیں یہ سب مصیبتیں اکٹھی دیں گے۔چنانچہ دیکھ لو وہ تمام حساب ہم کو اکٹھامل گیا۔یہ لازمی بات ہے کہ اگر کسی پر قرضہ ہو اور وہ ایک روپیہ آج ادا کرے، دوروپے کل دے، تین روپے پرسوں ادا کرے تو وہ قرضہ آسانی سے اُتار سکتا ہے لیکن اگر کسی پر اکٹھی ہیں پچیس ہزار کی ڈگری ہو جائے تو اسے سخت مشکل نظر آتی ہے۔ہم پر بھی اکٹھی ڈگری ہوگئی ہے اور اس کی ادائیگی ہمارے لئے مشکل ہوگئی ہے لیکن بہر حال خدا نے ہم پر ظلم نہیں کیا۔انگلستان کے لوگ برابر ہر سال اس قسم کے فکر اپنے اوپر لادتے رہے۔فرانس کے لوگ برابر ہر سال اس قسم کے فکر اپنے اوپر لادتے رہے اور وہ اپنا اپنا حصہ قسط وار ادا کرتے رہے مگر ہمیں بجائے قسط وار ادا کرنے کے اکٹھی رقم ادا کرنی پڑی۔پس ہمیں اپنی پوزیشن اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے۔روحانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی۔روحانی طور پر تمہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ان ابتلاؤں کے ذریعہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں سے ہر شخص مسیح موعود علیہ السلام کے مقام پر کھڑا ہے یا نہیں۔تم میں سے بعض لوگ ان