خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 21

خطبات محمود 21 سال 1947ء اچھے مبلغ ثابت ہوں گے۔پس میری اس تحریک کو جماعت میں اچھی طرح پھیلایا جائے۔اور یہ کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ دوست اپنی زندگیاں دیہاتی مبلغین کے طور پر وقف کریں۔ہم دیہاتی مبلغین کی تعداد کو انشاء اللہ بڑھاتے جائیں گے۔پہلے ایک ہزار پھر دو ہزار پھر تین ہزار پھر چار ہزار۔اِس طرح جتنا ہو سکے گا اس تعداد کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں ہی آٹھ لاکھ گاؤں ہیں۔اور اگر فی گاؤں ایک مبلغ رکھا جائے تو آٹھ لاکھ تو یہ ہو گئے۔چھوٹے چھوٹے شہروں میں گاؤں کی نسبت دس دس گنے ، ہمیں ہیں گنے آبادی ہوتی ہے اس لحاظ سے دو لاکھ مبلغ شہروں کے لئے درکار ہیں یہ کل دس لاکھ بنتے ہیں۔اگر ہمارا دس لاکھ آدمی کام کر رہا ہو تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں تبلیغ کرنے کا انتظام کر لیا ہے۔بے شک دنیا دار لوگوں کی نظروں میں ہماری یہ باتیں خواب و خیال نظر آتی ہیں لیکن مومن کے نزدیک یہ خواب و خیال نہیں بلکہ یقینی ہیں۔کیونکہ اس کی طرف سے کوشش میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔اس لئے وہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل میں بھی کمی نہیں رہے گی۔کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم قربانیاں کرتے چلے جاؤ گے لیکن اللہ تعالیٰ بیٹھا ہوا تماشہ دیکھتا تھی رہے گا؟ دنیوی کاموں میں ایک فیصدی کام تم کرتے ہو اور نناوے فیصدی اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کرتا ہے۔جن کاغذوں پر لکھا ہوا تم علم حاصل کرتے ہو وہ اللہ تعالیٰ نے بنائے۔جن اُستادوں سے تم علم پڑھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ نے بنائے۔جو علم تم پڑھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں۔جن دماغوں میں تم ان کو حفظ کرتے ہو وہ اللہ تعالیٰ نے بنائے۔تم صرف اتنا کرتے ہو کہ ان علوم کو رٹ لیتے ہو۔اگر دنیوی کاموں میں اللہ تعالیٰ تمہاری ننانوے فیصدی مدد کرتا ہے تو دینی کاموں میں وہ کیوں تمہاری مدد نہ کرے گا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دینی کاموں میں اللہ تعالیٰ ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار کو سوننانوے حصہ خود کرتا ہے اور لا کھ میں سے ایک حصہ تم کرتے ہو۔پس یہ خواب کی باتیں نہیں بلکہ یقین پرمبنی ہیں۔تم میں سے بہت سے لوگ ابھی زندہ ہوں گے کہ ان باتوں کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھیں گے۔اور دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک کہ ہر گاؤں اور ہر قصبہ میں اور شہر میں احمدی مبلغ پہنچ نہ جائیں۔یہ خدا تعالیٰ کی باتیں ہیں اور ضرور پوری ہو کر رہیں گی اور کوئی طاقت ان کو پورا ہونے سے روک نہیں سکتی۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم