خطبات محمود (جلد 28) — Page 22
خطبات محمود 22 سال 1947ء اپنی پوری کوشش کے ساتھ اپنے زمانہ کی ضروریات کو پورا کرتے جائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ ہر ایک جماعت یہ کوشش کرے گی کہ وہ جلد سے جلد ایک، دو یا اس سے زیادہ جتنے آدمی مل سکیں پیش کرے۔ہم ہر سال اس کلاس کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے چاہا تو ہوتے ہوتے یہ کلاس ایک ہزار سالانہ تک پہنچ جائے گی۔اور پھر اس سے بڑھنا شروع کرے گی۔جماعتوں کی تربیت واصلاح کرنے اور تعلیم کو فروغ دینے کے لئے سو مبلغ فی سال کچھ بھی نہیں۔ہر سال جماعتیں اپنی ضروریات پیش کرتی رہتی ہیں۔لیکن ہمارے پاس اتنے آدمی ہی نہیں کہ ہم اُن کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔پس جماعت کو یہ کوشش کرنی ہے چاہئیے کہ پچھلے سال کی نسبت بہر حال اس سال زیادہ آدمی اس کلاس میں شامل ہوں۔اگر پچھلے سال پچاس آدمیوں کی کلاس تھی تو اس سال ستر یا اسی کی کلاس ہو۔اگر ہم ہر سال پچاس دیہاتی مبلغ ہی تیار کریں تو دس سال میں جا کر ہمارے پاس پانچ سو دیہاتی مبلغ ہوں گے حالانکہ ہماری وی ضرورت ایک ہزار فی سال سے بھی پوری نہیں ہوتی۔اب وقت تھوڑا رہ گیا ہے جماعت کو چاہیئے کہ جتنی جلدی ہو سکے ایسے مخلصین کے نام بھجوا دے جو کہ اس تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہوں۔اور وہ مخلصین جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ یہ تحریک پیدا کرے اُن کو بھی ناموں کے بھجوانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔اور یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اگر پچھلے سال پچاس آدمی اِس کلاس میں شامل ہوئے تو اس سال اُس سے ڈیوڑھے یا ڈ گنے شامل ہوں کیونکہ اس سے کم میں ہماری ضرورت کسی طرح پوری نہیں ہو سکتی۔“ الفضل 30 جنوری 1947ء) -: مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرة: 262) :2 ابن ماجہ کتاب الزکوة - باب كَرَاهِيَةِ الْمَسْتَلَةِ۔