خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 231

خطبات محمود 231 سال 1947ء بالے اور اب جبکہ میں ( منبر کی طرف آتے ہوئے ) گزر رہا تھا تو رستہ میں مجھے بہت سے بچوں کی آوازیں بھی سنائی دیں کہ بارش کے لئے دعا کی جائے اس سے میں سمجھتا ہوں کہ طبائع کے اندر یہ عام احساس پیدا ہو چکا ہے۔لیکن یہ چیزیں ہر فرد پر اثر رکھتی ہیں۔گرمی کسی ایک انسان کے لئے نہیں آتی بلکہ سب پر یکساں آتی ہے۔اس لئے ہر ایک کو ہی اس کے لئے دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے گرمی کی اس شدت کو جو بھوں کی جانیں لے چکی ہے اور بچوں کو بیمار کر رہی ہے اور کئی لوگ اسکی برداشت نہ کرتے ہوئے نیم جان ہو رہے ہیں دُور فرمائے۔اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری جماعت کے افراد کو خصوصاً ایسی امراض اور تکالیف سے بچائے جن کی وجہ سے خدا نخواستہ اُن کے اندر کسی قسم کی کمزوری پیدا ہونے کا احتمال ہو اور وہ دین کی خدمت سے محروم رہ جائیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا ہے اُن آگ لگانے والوں کے افعال کا جنہوں نے لاہور اور امرتسر کے لوگوں کے گھروں کو آگیں لگائیں۔خدا تعالیٰ نے اُن کو بتایا ہے کہ تمہاری آگیں تو صرف چند گاؤں اور شہروں تک محدود ہیں لیکن اگر ہم آگ لگانا چاہیں تو ہم سارے ملکوں کو بھسم کر سکتے ہیں۔گرمی کی اس شدت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک تو آئندہ فصلوں کے لئے زمیندار کوئی تیاری نہیں کر سکے۔دوسرے ہر انسان کی صحت کمزور ہو رہی ہے۔اور وہ طاقت اور قوت جس سے انسان اپنی ذات کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی اچھے اور مفید کام کر سکتا ہے زائل ہو رہی ہے۔ان دو امور کے بعد اب میں ایک تیسری بات بیان کرنا چاہتا ہوں۔الفضل 1 میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جو میری فروری 1947 ء کی ایک خواب کے متعلق ہے۔میں نے 25 یا 26 فروری کو ایک رؤیا دیکھا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے لفظاً لفظاً پورا کر دیا ہے۔پہلے تو میں اسکی اور تعبیر سمجھتا تھا مگر گزشتہ واقعات نے بتلا دیا ہے کہ وہ خواب انہی واقعات کے متعلق تھی۔ابھی اس خواب کے اور حصے بھی ہیں جن کی تعبیر باقی ہے۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میری وہ خواب لفظاً لفظاً پوری ہو چکی ہے جس میں آگئیں لگانے کی طرف اشارہ تھا۔میں نے پی وہ خواب 28 فروری کو مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں دوستوں کے سامنے بیان کی تھی۔اور یہ رویا اُس دن سے دو تین دن پہلے کی تھی یعنی 25 یا 26 فروری کی۔اور یہ خواب الفضل 20 مارچ 1947ء میں شائع ہوئی تھی۔اس رویا میں میں نے دوزخ کا ایک نظارہ دیکھا تھا۔