خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 203

خطبات محمود 203 سال 1947ء سے بدلہ کی امید نہیں۔زیادہ گزارے یا کم گزارے کا خیال تو ملازمین کو ہوتا ہے۔واقف زندگی کے لئے اس قسم کی کوئی شرط نہیں ہو سکتی۔اگر ہمارے پاس زیادہ ہوگا تو ہم واقفین کو زیادہ دے دیں گے اور اگر کم ہوگا تو کم دیں گے۔اور اگر بالکل نہ ہوگا تو ہم ان کو کچھ بھی نہیں دیں گے اور ان سے کہہ دیں گے کہ مانگ کر کھاؤ اور سلسلہ کا کام کرو۔اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔پہلے انبیاء کے زمانہ میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔گوتم بدھ کے زمانہ میں یہی طریق رائج تھا۔گوتم بدھ نے دیکھا کہ چندوں اور تنخواہوں سے تو کام نہیں بنتا ان کے پاس جو شا گرد آتے تھے آپ انہیں ایک جھولی دے دیتے کہ مانگ کر کھاؤ اور بدھ مذہب کی تبلیغ کرو۔نہ گزارے کی شرط نہ تنخواہ کی شرط ، مانگو اور تبلیغ کرو۔اُن کی زندگی میں ایک عجیب مثال پائی جاتی ہے۔گوتم بدھ کے گھر جوانی میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔چونکہ وہ دنیاوی کاموں سے بہت دور رہتے تھے۔والدین نے اُن کی بچپن میں ہی شادی کر دی تھی۔لڑکے کی پیدائش کے بعد انہوں نے گھر بار چھوڑ دیا اور عبادات کرنے کے لئے جنگلوں کی طرف چلے گئے اور جنگلوں میں جا کر ہی آپ کو الہام ہونا شروع ہوا۔گوتم بدھ کا باپ اُس علاقے کا بادشاہ تھا اور اُن کی حکومت کا یہ قانون تھا کہ حکومت باپ کے بعد بیٹے کو ملتی تھی پوتے کو نہیں۔اب گوتم بدھ تو بادشاہ بننے سے انکار کر چکے تھے اور پوتا تخت کا وارث نہیں ہوسکتا تھا۔گوتم بدھ کے باپ نے یہ تجویز کی کہ اپنے پوتے کو فقیروں کا لباس پہنایا اور اس سے کہا کہ تم جا کر گوتم بدھ سے راج کی بھیک مانگو۔اس کا مطلب یہ تھا کہ گوتم بدھ اسے بادشاہت پر قابض ہونے کی اجازت دے دے گا تو میں اپنے پوتے کو تخت پر بٹھا دوں گا۔چنانچہ گوتم بدھ کا بیٹا ان کے پاس ہے گیا اور کہا میں آپ سے راج کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔گوتم بدھ کے نزدیک تو اصل راج وہ تھا جو اللہ تعالی کی درگاہ سے حاصل ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا تم سچے دل سے بھیک مانگنے آئے ہو؟ اس نے کہا ہاں سچے دل سے بھیک مانگنے آیا ہوں۔انہوں نے نائی کو بلوایا اور اس کے سر کے بال منڈوا کر اسے فقیری کا خرقہ 4 پہنا دیا۔اور کہا یہی راج ہمارے پاس ہے۔جاؤ اور اس راج کی تبلیغ کرو۔گوتم بدھ کے باپ کو جب معلوم ہوا تو اسے غش پرخش آنے لگے کیونکہ اس کے معنی یہ تھے کہ حکومت اُس کے خاندان میں سے ہمیشہ کے لئے نکل گئی۔آخر باپ نے گوتم بدھ کو بلایا اور انہیں کہا کہ خاندان کو تو تم نے تباہ کر دیا۔لیکن کیا تم سمجھتے ہو کہ تم نے