خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 204

خطبات محمود 204 سال 1947ء انصاف کیا ہے کہ ایک نابالغ لڑکے کو اس کے متکفل کی اجازت کے بغیر تم نے اُس کے حق سے محروم کر دیا۔آئندہ کے لئے عہد کرو کہ تم کسی نابالغ کو بھکشو نہیں بناؤ گے۔چنانچہ گوتم بدھ نے یہ عہد کیا اور آئندہ کے لئے حکم دے دیا کہ کسی نابالغ کو بھکشو نہ بنایا جائے۔چنانچہ اب بدھوں میں نا بالغ کو بھکشو نہیں بناتے۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے کہا۔جھولی لوجی اور مختلف ممالک میں پھیل جاؤ۔اور صرف آج کی روٹی کا ذکر کرو۔کل کی روٹی تمہیں کل ملی تھی جائے گی۔5 اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم جہاں جاؤ اُس علاقے کے لوگوں پر تین دن تک تمہاری روٹی کا حق ہے۔6 اس لئے دین کی تبلیغ کرتے ہوئے روٹی کے لئے پریشان نہ ہو۔جہاں جاؤ اُس علاقہ کے لوگوں سے لے لو۔پس اشاعتِ مذہب کے لئے صحیح طریق یہی ہے کہ بغیر کسی معاوضہ کے دینی کام کئے جاویں۔اس زمانہ کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ہم قدم بقدم چل رہے ہیں۔پہلے ہمارے پاس کوئی مبلغ نہ تھا۔پھر ہم نے تنخواہ دار مبلغ رکھے اور پھر وقف زندگی کے مطالبہ کے ماتحت تنخواہ کا سوال ہی اُڑا دیا۔اب آہستہ آہستہ وہ زمانہ بھی آجائے گا کہ ہماری جماعت کا ایک حصہ جھولیاں ڈال کر تبلیغ اسلام کے لئے نکل جائے گا اور خدا کے نام پر اگر کسی نے کچھ کھانے کو دیا تو کھالیں گے اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام اکناف عالم میں پھیلاتے چلے جائیں گے۔ہر گروہ اپنے اپنے وقت پر آگے آئے گا اور دین کا کام کرے گا۔اسی سلسلہ میں اب زمینداروں کے لئے موقع پیدا ہو گیا ہے کہ وہ آگے آئیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے رستہ کھول دیا ہے۔ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو زمیندارہ کام جانتے ہوں اور سخت سے سخت کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ممکن ہے ہمیں ان کو ایسی جگہ بھیجنا پڑے جہاں گھنے جنگل ہوں اور ان جنگلات میں درندے وغیرہ ہوں اور ممکن ہے کہ سندھ کی زمینوں پر بھی اُن سے کام لیا جائے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ سلسلہ کی زمینوں پر جہاں باقی کارندے واقف زندگی ہوں وہاں مزارع بھی واقفین ہی ہوں۔یعنی ہل چلانے والا بھی واقف زندگی ہو اور ہل چلوانے والا بھی واقف زندگی ہو اور نگرانی کرنے والا بھی واقف زندگی ہو۔اس کے علاوہ بھی ہمیں بعض جگہ فوری طور پر زمینداروں کی ضرورت ہے جو ہر تکلیف برداشت کرنے کو تیار ہوں اور ایسا کام سوائے واقفین کے اور کوئی نہیں