خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 187

خطبات محمود 187 سال 1947ء کرنے کی اجازت ہو تو ہر افواہ جھوٹی ثابت کی جاسکتی ہے۔فرض کرو ایک افواہ ہندوؤں کے خلاف مشہور کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایسا ایسا کیا تو سننے والا فوراً کہہ سکتا ہے کہ ہندو اخبارات کے متعلق تو قیاس کیا جاسکتا ہے کہ شائد انہوں نے یہ خبر اس لئے شائع نہ کی ہو کہ یہ خبر اُن کی قوم کے خلاف تھی لیکن مسلمان اخبارات نے اُسے کیوں شائع نہیں کیا۔یا اگر مشہور ہوتا کہ فلاں جگہ مسلمانوں نے ایسا کیا ہے تو ایک سننے والا کہہ سکتا ہے کہ مسلمان اخبارات نے تو شاید اپنی قوم کی حمایت کی وجہ سے اس خبر کو شائع نہ کیا ہو۔لیکن اگر یہ خبر درست ہوتی تو ہندو اخبارات کیوں خاموش رہتے۔ان کا خاموش رہنا بتاتا ہے کہ یہ خبر ہی غلط ہے۔پس گورنمنٹ کو اخبارات پر پابندی نہیں لگانی چاہیئے۔اسی طریق کو اختیار کرنے سے افواہوں کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔معلوم نہیں گورنمنٹ نے کسی مصلحت کے ماتحت اخباروں پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔حالانکہ ان پابندیوں کے نتیجہ میں ملک کی فضا میں بہت گھبراہٹ ہے اور تناؤ پیدا ہوتا جارہا ہے۔میرے نزدیک حالات کو سدھارنے کے لئے گورنمنٹ کو آئندہ کے لئے اخبارات کو خبر میں شائع کرنے کی کھلی اجازت دے دینی چاہیئے۔مگر ساتھ ہی یہ تنبیہ کر دینی چاہیئے کہ اگر کوئی جھوٹی خبر شائع کی تو سزا ملے گی۔اور جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے سزا قید کی صورت میں نہ دی جائے بلکہ مجسٹریٹ یہ فیصلہ دے کہ اس اخبار نے فلاں فلاں جھوٹی خبر شائع کی ہے اس لیے اس کو یہ سزادی جاتی ہے کہ پہلی خبروں کی تردید کرے اور جو اصل خبریں ہیں اُن کو درج کرے اور اخبار والے کو مجبور کیا جائے کہ وہ اس فیصلہ کو شائع کرے۔ذرا غور تو کرو کہ اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہو سکتی ہے کہ ایک اخبار میں ہر صفحہ پر یہ لکھا ہوا ہو کہ فلاں مجسٹریٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس اخبار والے نے جھوٹ بولا اور پھر فلاں مجسٹریٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس اخبار والے نے جھوٹ بولا ہے۔جو اخبار جھوٹ بولنے کے بعد ایسی تر دیدیں شائع کرے گا وہ تو دو ماہ میں ہی لوگوں کی نظروں سے بالکل گر جائے گا اور اُس کی اشاعت بند ہو جائیگی۔پس اصل طریق افواہوں اور جھوٹی خبروں کو روکنے کا یہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔لیکن گورنمنٹ نے غلط طریق اختیار کر کے ملک میں بے چینی کا رستہ کھول دیا ہے۔اسی سلسلہ میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جب ملک میں تناؤ موجود ہے تو ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنی حفاظت کا فکر کرے اور اپنے دشمنوں سے ہمیشہ ہوشیار رہے۔اسی حکمت کے