خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 184

184 سال 1947ء خطبات محمود دلاتے رہیں۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ اساتذہ ایک سال کے اندر ہی میری اس ہدایت کو بھول گئے۔اور اب پھر میں دیکھتا ہوں کہ لڑکے ایک دوسرے کو گہنیاں مارتے اور دھکے دیتے؟ ہوئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا اُن کو یہ سمجھایا ہی نہیں گیا کہ نماز کی کیا عظمت اور حقیقت ہوتی ہے۔وہ مسجد میں آکر بھی یہی سمجھتے ہیں گویا وہ کبڈی کے میدان میں کھڑے ہی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اَلصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَ لَوْ كَانَ نَبِيًّا بچہ بچہ ہی ہے خواہ بعد میں وہ نبی ہی کیوں نہ بن جانے والا ہو۔اُسے بہر حال وعظ و نصیحت کرنی ہی پڑتی ہے۔اگر ایک زندہ قوم کے اساتذہ کی یہ حالت ہے کہ وہ ایک سال کے اندراندرا اپنی ذمہ داریاں بھول جاتے ہیں۔اپنے خلیفہ اور امام کی موجودگی میں كَمَا حَقَّہ اپنے فرائض ادا نہیں کرتے تو اُن مسلمانوں کا کیا قصور ہے جو تیرہ سو سال سے خلافت کے نور سے محروم چلے آرہے ہیں۔ہماری جماعت کے لوگ زبان سے پر طعن کرتے ہیں لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہم اُن سے اچھے حال میں ہوتے ہوئے اور ایک خلیفہ اور امام کی موجودگی میں بعض دفعہ ان سے زیادہ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔اگر اساتذہ ہی ان ہدایات کو بھول جاتے ہیں تو طالب علم تو مجبور ہیں۔تو اُن پر پس اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ بچوں کا اخلاق فاضلہ سکھائیں۔اُنہیں مساجد کے آداب بتا ئیں۔انہیں کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے اور بڑوں سے ملنے کے آداب سکھائیں۔مگر جب اساتذہ خود ہی ان باتوں کو نوٹ نہیں کرتے تو وہ طلباء کو کیسے تکرار کے ساتھ یہ باتیں بتا سکتے ہیں۔اگر بچوں کے سامنے بار بار ان باتوں کو بیان کیا جائے تو وہ اُن کے ذہن نشین ہو جاتی ہیں۔اور وہ آئندہ ایسی غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن جب خود اساتذہ ہی کندہ نا تراش 1 ہوں تو طلباء کو وہ کیا سکھا سکتے ہیں۔ان کے نزدیک علم صرف یہی ہے کہ ہمالیہ کی چوٹی اتنی اونچی ہے۔گویا وہ ان کو یہ تو بتانا چاہتے ہیں کہ ہمالیہ کی چوٹی کتنی بلند ہے مگر یہ بتانا نہیں چاہتے کہ اُن کی روح کس طرح بلند ہو سکتی ہے اور وہ کس طرح مہذب بن سکتے ہیں۔وہ علم صرف یہی سمجھتے ہیں کہ اٹھو اٹھے چونٹھ “ اور ” نو نایاں ا کاسی“ انہیں بتا دیا جائے۔حالانکہ اصل علم وہ ہے جس سے انسانی روح اور دماغ ترقی کرتا ہے اور یہی علم سب سے افضل ہوتا ہے۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ملک کے حالات نہایت