خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 138

خطبات محمود 138 سال 1947ء جاؤں گا اور خود کشی کرلوں گا مگر خنساء کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا گھبراتے کیوں ہو میرا بھائی موجود ہے اس کی موجودگی میں ہمیں کیا ڈر ہے۔اور وہ پھر اُسے ساتھ لے کر بھائی کے پاس گئیں۔بھائی نے پہلے سے بھی زیادہ شاندار استقبال کیا اور زیادہ شاندار دعوتیں کیں۔اور پھر کچھ رؤساء سے کہا میری دولت برابر برابر تقسیم کر کے آدھی میری بہن کو دے دو۔اس دفعہ اس کی بیوی نے کہا کچھ خدا کا خوف کرو تمہارے بھی بیوی بچے ہیں ان کا کیا بنے گا ؟ وہ تو جواری ہے تم اسی طرح سب کچھ لٹاتے جاؤ گے؟ بھائی نے اپنی بیوی سے کہا تم خاموش رہو۔اگر میں مر گیا تو تم تو اور خاوند کر لو گی لیکن میری بہن ہی ہے جو مجھے ساری عمر روئے گی۔پھر بھائی نے آدھی دولت بہن کے سپرد کی۔بہن وہ دولت لے کر پھر گھر واپس آگئی۔وہ بھی اس نے ضائع کرنی شروع کر دی لیکن کچھ عرصہ بعد وہ مر گیا اور اس نے غالباً تین بیٹے چھوڑے۔کچھ دیر کے بعد بھائی بھی مر گیا۔اس محبت کرنے والے بھائی کی موت نے بہن کے دل پر ایسا گہرا زخم لگایا کہ اس نے اپنے بھائی کی یاد میں مرغے کہنے شروع کر دیئے اور درد اور محبت کی وجہ سے ان کے خیالات ایسا رنگ پکڑ گئے کہ عرب کے بڑے بڑے شاعران کے شعروں کی داد دینے لگے اور حضرت خنساء عورتوں میں سے سب سے بڑی شاعرہ بن گئیں۔جب حضرت عمر نے اوپر کی بیان کردہ شکست کے بعد دوبارہ لشکر تیار کیا تو اُس میں حضرت خنساء کے بیٹے شامل تھے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں اسلامی لشکر قریباً تمام تباہ ہو چکا تھا۔جلدی جلدی حضرت عمرؓ نے تھوڑی سی فوج جمع کی۔دشمن کے لشکر کی تعداد ایک لاکھ تھی اور اسلامی لشکر کی تعداد دس ہزار سے لے کر تمیں ہزار تک بیان کی جاتی ہے۔عام روایت دس بارہ ہزار کی ہی ہے۔یہ دس بارہ ہزار سپاہی بھی نا تجربہ کار اور فنونِ جنگ سے محض نابلد تھا۔سوائے شام سے آنے والے حصہ کے کہ وہ تجربہ کار تھا۔ایرانیوں نے اس لڑائی میں یہ تدبیر کی کہ وہ میدانِ جنگ میں ہاتھیوں کو آگے رکھتے تھے۔عرب لوگ ہاتھیوں سے ڈرتے تھے۔اونٹ بھی ہاتھی سے ڈرتا ہے۔جب ایرانی ہاتھیوں کو آگے کرتے تو اونٹ ڈر کر بھاگنا شروع کر دیتے اور ڈٹ کر لڑائی کرنا مشکل ہو جاتا۔مسلمانوں کو اس لڑائی کا نتیجہ نظر آنے لگا اور وہ سمجھنے لگے کہ اگر یہی حالات رہے تو ہم اب بھی فتح نہیں پاسکیں گے۔آخر ایک دن مسلمان بہادروں نے فیصلہ کیا کہ کل کی لڑائی فیصلہ کن لڑائی ہو۔اس طرح نہیں کہ حکمت