خطبات محمود (جلد 28) — Page 119
خطبات محمود 119 سال 1947ء سے بہت بڑھ کر دین کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ علاوہ چندوں کے بھی جماعت پر ایسا بار ہے جو دوسری جماعتوں پر نہیں۔مثلاً جلسہ سالانہ کے موقع پر جس نسبت سے ہماری جماعت اکٹھی ہوتی ہے دنیا کی کوئی جماعت اس نسبت سے اپنے مرکز میں جمع نہیں ہوتی اور اس طرح بھی جماعت پر ایک بہت بڑا خرچ پڑ جاتا ہے۔اگر ہم یہ فرض کریں کہ ہمارے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد میں ہزار تھی اور ریل والوں کی لسٹ یہی بتاتی ہے اور اگر ہم اوسط خرچ پانچ روپے فی آدمی رکھیں تو ایک طرف کا خرچ ڈیڑھ لاکھ روپیہ بن جاتا ہے اور دونوں طرف کا خرچ تین لاکھ روپیہ بنتا ہے۔بالعموم ہماری جماعت کے دوست قریب کی جگہوں سے آتے ہیں مگر بعض دوست بہت سے بھی آتے ہیں اور ایک ایک آدمی کا خرچ ڈیڑھ ڈیڑھ دو دوسو روپیہ ہو جاتا ہے۔اگر ان تمام اخراجات کو برابر تقسیم کیا جائے تو دس روپے فی کس آمد ورفت کے خرچ سے کم نہیں بنتا۔پس تین لاکھ روپیہ تو صرف جلسہ سالانہ پر آنے جانے میں ہی خرچ ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ بھی لوگ ہماری تحریک کے مطابق وقتا فوقتاً قادیان آتے رہتے ہیں۔اگر ان اخراجات کا بھی اندازہ کیا جائے تو وہ بھی تین چار لاکھ بن جاتا ہے۔اس کے علاوہ مستقل چندوں کا خرچ ہے۔تحریک جدید کے چندے ہیں۔صدر انجمن احمد یہ کے چندے ہیں۔وصیت کے چندے ہیں اور پھر کچھ نہ کچھ مقامی چندے بھی ہوتے ہیں۔ان تمام چندوں کو دیکھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری چندوں کی آمد کے برابر ہی رقم متفرق دینی کاموں پر خرچ ہوتی ہے لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ جو مشکلات ہمارے راستے میں حائل ہیں وہ دوسروں کے رستہ میں حائل نہیں۔اور جو ذمہ داریاں ہم پر ہیں وہ دوسروں پر نہیں۔اور جو نصب العین ہم پیش کرتے ہیں وہ دوسرے لوگ پیش نہیں کرتے۔ہماری مثال تو اُس پرندہ کی سی ہے جو ٹانگیں اوپر کر کے سویا ہوا تھا۔کسی نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو تم سوتے وقت ٹانگیں اوپر کر کے کیوں سوتے ہو؟ اس نے کہا میں اس لئے ٹانگیں اوپر کر کے سوتا ہوں کہ اگر آسمان گر پڑے تو میری ٹانگیں اُسے سہارا دے کر اٹھائے رکھیں۔یہی حالت اس وقت ہماری ہے۔دنیا کی نظروں میں ہمارا نصب العین مجنونانہ معلوم ہوتا ہے لیکن جہاں تک قربانی کا سوال ہے ہمیں اس نصب العین کو پورا کرنے کے لئے مجنونانہ قربانی ہی کرنی پڑے گی تب جا کر ہم یہ ثابت کر سکیں گے کہ ہماری باتیں معقول ہیں اور ہمارا نصب العین معقول ہے بلکہ سب سے اعلیٰ ہے۔ورنہ صرف یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔جتنے بیوقوف