خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 120

خطبات محمود 120 سال 1947ء اور سکتے لوگ دنیا میں ہوتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی ہی پناہ لیتے ہیں۔اس لئے ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم پاگل نہیں اور ہم میں اور ست اور سکتے لوگوں میں نمایاں فرق ہے۔دعوی کے لحاظ سے ہم دونوں برابر ہیں۔ایک پاگل آدمی بھی یہی کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے کام کر رہا ہوں اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لئے کام کر رہے ہیں۔بہر حال ہم میں اور ایسے لوگوں میں کوئی امتیاز ہونا چاہیئے اور وہ امتیاز یہی ہے کہ پاگل جو کچھ کہتا ہے اُس کے ساتھ قوت عملیہ نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کا قانون اُس کے ساتھ نہیں ہوتا۔لیکن ہم پاگل اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ کا قانون ہمارے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہمت کرو ہم ہمت اور محنت سے کام کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اسراف سے بچو۔1 ہم اسراف نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے تم اپنے کاموں کو سرانجام دینے کے لئے جد و جہد کرو 2 ہم جد و جہد کرتے ہیں بلکہ عام لوگوں سے زیادہ جد و جہد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے جن قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہم کرتے ہیں۔پس ہم میں قوت عملیہ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قانون بھی ہمارے ساتھ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کو پاگل اس لئے کہا جاتا ہے کہ جو باتیں وہ پیش کرتی ہیں وہ کوتاہ بین نگاہوں کو انہونی نظر آتی ہیں۔دوسرے ان جماعتوں کی قربانیاں ایسی مجنونانہ ہوتی ہیں کہ دشمن ان کو پاگل سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے۔پس ایک نبی کو بھی پاگل کہا جاتا ہے اور ایک پاگل شخص کو بھی پاگل کہا جاتا ہے۔ان میں فرق کیا ہوتا ہے؟ فرق یہی ہوتا ہے کہ نبی کو لوگ دعوی ماموریت سے پہلے پاگل نہیں سمجھتے اور دعوئی کے بعد پاگل کہنے لگتے ہیں لیکن جو پاگل ہوتا ہے لوگ اُس کو اُس کے دعویٰ سے قبل ہی پاگل کہہ رہے ہوتے ہیں۔قادیان کے ایک دوست ایک دفعہ ایک مجنون آدمی کے پاس (جن کا نبوت کا دعویٰ تھا) گئے اور سے کہنے لگے کہ آپ تو پاگل ہیں، آپ نبی کیسے ہو سکتے ہیں؟ اس نے کہا دیکھو پہلے نبیوں کو بھی پاگل کہا گیا ہے یہ تو میرے بچے ہونے کی دلیل ہے۔جب انہیں یہ جواب ملا تو بھاگے بھاگے میرے پاس آئے کہ میں اس کا کیا جواب دوں؟ میں نے کہا خود آپ کا مجنون ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے۔جس کی شخص کو آپ مجنون سمجھتے ہیں اسے تبلیغ کرنے کے کیا معنی۔پھر میں نے کہا یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا جی جواب دینا مشکل ہو۔نبی اور عام آدمیوں کو مجنون کہنے میں فرق ہے۔نبی کو لوگ اُس کے دعوی سے پہلے