خطبات محمود (جلد 28) — Page 114
خطبات محمود 114 سال 1947ء لئے ابتلاء کا موجب ہوتا ہے۔اور آنے والی نسلوں کا فرض ہوتا ہے کہ ان کی یاد کو اپنے دلوں میں تازہ رکھیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور ان کے روحانی وجود کو دنیا میں قائم دوسرا جنازہ سیٹھ محمد غوث صاحب کا ہے۔مجھے ان کے متعلق یہ یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آپ صحابی تھے یا نہیں تھے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں میری ان سے واقفیت ہوئی اور میں جب حج کے لئے گیا تو میں نے ان کو بمبئی میں دیکھا کہ اُس وقت انہوں نے ایسے اخلاص اور محبت کا ثبوت دیا کہ اُسی وقت سے ان کے تعلقات میرے ساتھ خانہ واحد کے تعلقات ہو گئے۔میں پنے سامان کی تیاری کے لئے جہاں جاتا وہ سائے کی طرح میرے ساتھ لگے رہتے اور جہاز تک انہوں نے میرا ساتھ نہ چھوڑا۔ان کا اخلاص اتنا گہرا تھا کہ عبدالحی صاحب عرب نے (جن کو میں اپنے ساتھ بطور ساتھی کے لے گیا تھا) ایک دفعہ پانی پینے کے لئے ایک خوبصورت گلاس نکالا۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ پہلے تو آپ کے پاس نہیں تھا اب آپ نے کہاں سے لیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ مجھے سیٹھ صاحب نے لے کر دیا تھا کہ جب اس میں پانی پیو گے تو میں یاد آ جاؤں گا۔اُس وقت ان کو میرے لئے دعا کے لئے یاد کرا دینا۔دوسری دفعہ جب میں بمبئی گیا تو سیٹھ صاحب پھر حیدرآباد سے بمبئی پہنچ گئے۔حالانکہ حیدرآباد سے بمبئی بارہ چودہ گھنٹے کا رستہ ہے لیکن پتہ چلتے ہی فوراوہاں پہنچ گئے اور آخر دن تک ساتھ رہے۔بلکہ مجھے ان کا ایک لطیفہ اب تک یاد ہے۔وہ ایسے ساتھ ہوئے کہ ان کا ساتھ رہنا میری طبیعت پر گراں گزرنے لگا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم جہاں جاتے ، جب کھانے کا وقت آتا وہ اُسی جگہ کسی اچھے سے ہوٹل میں تمام قافلہ کے لئے کھانے کا انتظام کر دیتے اور کھانا کھانے پر مجبور کرتے۔آخر میرے دل میں خیال آیا کہ اب تو حد سے زیادہ مہمان نوازی ہو گئی ہے۔ایک دن میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آپ لوگ سیٹھ صاحب کو کیوں ساتھ لے لیتے ہیں۔وہ جہاں جاتے ہیں وہیں کھانے کا انتظام کر دیتے ہیں اور اب تو مہمان نوازی بہت لمبی ہو چکی ہے۔چنانچہ یہ طے ہوا کہ آج وقت سے دو گھنٹہ پہلے ہی ہے یہاں سے نکل جائیں تا کہ جب سیٹھ صاحب آئیں تو ان کو ہمارے متعلق علم نہ ہو سکے۔ہم لوگ موٹروں میں بیٹھ کر دو گھنٹہ سے پہلے ہی گھر سے روانہ ہو گئے۔کچھ دور جا کر پھر ہم ریل میں