خطبات محمود (جلد 28) — Page 407
خطبات محمود 407 سال 1947ء میں آئی۔میں نے کنکر اُٹھایا اور اُسے دریا میں یہ کہتے ہوئے پھینک دیا تو راشنان سومورا شنان۔“ یعنی چل بھئی کنکر تیرا نہانا میرا نہانا ہو گیا۔یہ کہہ کر میں واپس آ گیا۔اس پر دوسرا پنڈت و ہیں سے مڑ بیٹھا اور کہنے لگا چل بھٹی پھر تیرا نہانا میرا نہانا ہو گیا۔یہ ایمان بھی کوئی ایمان ہے؟ ہمارا خدا سے صرف اُس وقت تک تعلق ہو جب تک وہ ہمیں لیٹے لیٹے حلوے کھلاتا رہے۔جہاں آزمائش کا وقت آئے ایمان ختم ہو جائے۔ایسے ایمان کی کیا قیمت ہو سکتی ہے؟ کیا موسیٰ نے ایساتی ہی ایمان دکھایا تھا ؟ کیا عیسی نے ایسا ہی ایمان دکھایا تھا ؟ کیا نوح نے ایسا ہی ایمان دکھایا تھا؟؟ جب خدا نے نوح سے یہ کہا کہ کشتی بنا اور یہاں سے نکل۔تو آخر نوح کا کوئی گھر تھا یا نہیں ؟ اُس گھر سے اُنہیں محبت تھی یا نہیں ؟ نوح کی کوئی قوم تھی یا نہیں ؟ اور اُس قوم سے انہیں محبت تھی یا ی نہیں ؟ نوح کا کوئی شہر تھا یا نہیں اور اُس شہر سے انہیں محبت تھی یا نہیں ؟ آخر اسی شہر میں ایسا خدا رسیدہ انسان تھا کہ تورات میں اُس کے متعلق لکھا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا 6۔ایسے باپ دادا کی قبریں وہاں تھیں۔مگر خدا نے انہیں یہی حکم دیا کہ اس شہر سے باہر نکل۔جب خدا نے انہیں کہا کہ اے نوح کشتی بنا اور یہاں سے نکل۔تو کیا اُس وقت نوح نے یہ کہا تھا کہ آپ اپنی نبوت اپنے گھر رکھیں میں تو وطن چھوڑ کر جانے کے لئے تیار نہیں ؟ نوح نے یہ نہیں کہا بلکہ وہ کشتی بنا کر چل پڑا اور اس نے اپنے وطن کو ترک کر دیا۔جب موسیٰ کو خدا نے یہ کہا کہ تو مصر سے نکل تو کیا موسیٰ اُس وقت ناراض ہوا اور اُس نے یہ کہا کہ میں تو مصر چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ؟ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلسطین میں موسیٰ کے باپ دادا رہتے تھے اور وہ اُس کا وطن ہی تھا۔کیونکہ اول تو اُن کے اصل باپ دادا فلسطین کے نہیں بلکہ عراق کے رہنے والے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فلسطین کا وعدہ دیا گیا تھا۔مگر آپ فلسطین کے باشندے نہیں تھے بلکہ آپ اور کے رہنے والے تھے جو عراق میں ہے۔جہاں عراق کے دونوں دریا چلتے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر سختی کی گئی اور آپ کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے کہا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔اور وہ فلسطین چلے گئے۔جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا کہ یہ ملک آخر تمہاری اولا د کو دیا تای جائے گا۔مگر اولاد کے لئے بہر حال یہ ایک نیا ملک تھا۔خواہ اس کے پرانے باپ دادا اسی ملک میں کیوں نہ رہ چکے ہوں۔محض باپ دادا کے رہنے کی وجہ سے کسی ملک سے محبت نہیں ہو سکتی۔اسی