خطبات محمود (جلد 28) — Page 378
خطبات محمود 378 سال 1947ء کرو تو اس ابتلاء کو ہم تمہارے لئے ابتلاء رحمت بنادیں گے اور تمہاری ترقی کے سامان پیدا کر دیں گے۔پس ہماری جماعت کو چاہیئے کہ وہ اپنے اندر ایک نیک اور اعلیٰ درجہ کی تبدیلی پیدا کرے۔میں نے ابھی کہا تھا کہ میں بتاؤں گا کہ جماعت کی مالی قربانی بھی اتنی نہیں۔بلکہ اس کے قریب بھی نہیں جسے قربانی کہا جا سکے۔یہ کتنے نازک دن ہیں اور کتنی مشکلات ہمارے سلسلہ پر آئی ہوئی ہیں۔لنگر کا خرچ پہلے پانچ چھ سو روپے ماہوار ہوا کرتا تھا مگر اب بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قادیان میں جو لوگ حفاظت کے لئے بیٹھے ہیں وہ کوئی ایسا کام نہیں کر رہے جو آمد پیدا کرنے والا ہو۔ایک دکاندار وہاں حفاظت مرکز کے لئے بیٹھا ہے مگر اُس کی دکان کوئی نہیں۔اسی طرح زمیندار وہاں حفاظت مرکز کے لئے بیٹھا ہے مگر اُس کی زمین کوئی نہیں۔وہاں اس وقت ہما را دو ہزار آدمی لنگر سے کھانا کھا رہا ہے۔تم خود ہی سمجھ لو کہ اگر بہت ہی کفایت سے خرچ کیا جائے تب بھی پندرہ بیس ہزار روپیہ ماہوار آجکل قادیان کے لنگر کا خرچ ہو رہا ہے۔حالانکہ پہلے یہ خرچ صرف پانچ سو تھا۔گویا چودہ یا ساڑھے چودہ ہزار روپیہ ماہوار زیادہ خرچ ہو رہا ہے۔یہاں بھی اوسطاً ہیں پچیس روپیہ ماہوار کا خرچ ہے۔کیونکہ باہر سے لوگ کثرت سے آئے ہوئے ہیں۔یہ چونتیس پینتیس ہزار روپیہ ماہوار خرچ ایسا ہے جس میں سے ایک پیسہ بھی پہلے خرچ نہیں ہوا کرتا تھا۔گویا سال بھر کے لئے پانچ لاکھ روپیہ ہمیں محض اس ایک مد کے لئے چاہیئے۔یہ حالات ایسے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے جماعتوں کو چاہیئے تھا کہ فوراً جیسے میں نے تحریک کی تھی پچاس فیصدی چندہ دینا شروع کر دیتیں اور سال بھر یا چھ ماہ کے لئے یہ بوجھ اٹھا تیں۔اور اگر وہ پچاس فیصدی دینے کی توفیق نہیں رکھتی تھیں تو چالیس فیصدی چندہ دے دیتیں۔چالیس فیصدی دینے کی توفیق نہیں رکھتی تھیں تو تینتیس فیصدی دے دیتیں۔تینتیس فیصدی دینے کی توفیق نہیں رکھتی تھیں تو پچیس فیصدی دے دیتیں۔پچیس فیصدی دینے کی توفیق نہیں رکھتی ہے تھیں تو ہمیں فیصدی دے دیتیں۔بیس فیصدی دینے کی توفیق نہیں رکھتی تھیں تو پندرہ فیصدی دے دیتیں۔غرض کوئی تغیر تو اپنے چندوں میں کرتیں مگر انہوں نے کوئی تغیر پیدا نہیں کیا۔میرے سامنے پھر لاہور کی مثال آجاتی ہے۔کل لاہور کی جماعت سے چندہ کی فہرست میں نے منگوائی تو معلوم ہوا کہ بجٹ کے رو سے لاہور کی جماعت کا چندہ تین ہزار آٹھ سو روپیہ ماہوار