خطبات محمود (جلد 28) — Page 329
خطبات محمود 329 سال 1947ء غیرت جوش میں آئی اور خانہ کعبہ کی طرف چل پڑے۔رؤساء مکہ کا طریق تھا کہ شام کے وقت وہ خانہ کعبہ میں بیٹھ کر اپنی بڑائیاں بیان کیا کرتے اور لوگ ان کی تعریف کرتے۔تمام رؤساء بیٹھے ہوئے تھے اور ابو جہل بھی ان میں موجود تھا کہ حمزہ گئے اور انہوں نے وہی کمان جواُن کے ہاتھ میں تھی ابو جہل کے منہ پر ماری اور کہا میں نے سنا ہے تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارا بھی ہے اور گالیاں بھی دی ہیں؟ اور میں نے سنا ہے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کوئی لفظ تم کو نہیں کہا تھا جس کے بدلہ میں تم گالیاں دیتے ؟ پھر حمزہ نے کہا تم بہادر بنے پھرتے ہو اور جو چپ کر جاتا ہے اُس پر ظلم اور تعدی کرتے ہو۔اب میں نے سارے مکہ کے سامنے تمہیں مارا ہے اگر تم میں ہمت ہے تو مجھے مار دیکھو۔مکہ کے نو جوان حمزہ کو پکڑنے کے لئے اٹھے۔مگر ابو جہل پر ان کا ایسا رعب طاری ہوا کہ اس نے کہا جانے دو، صبح مجھ سے ہی کچھ زیادتی ہوگئی تھی۔5 پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ ، وہ مکہ جس میں تیرہ سال تک آپ تبلیغ ہدایت کرتے رہے تھے اور جس کے لوگوں کو آپ نے سب سے پہلے خطاب کیا تھا رات کے وقت چھوڑ نا پڑا۔اور چھپتے چھپاتے آپ مدینہ پہنچے مگر دشمن نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا اور متواتر مدینہ پر حملے ہوتے رہے۔ایک سو بیس کے قریب وہ لڑائیاں ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو لڑنی پڑیں۔اور ان میں سینکڑوں صحابہ مارے گئے اور بعض جگہ پر تو ایسی طرز پر مارے گئے کہ اس نظارے کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ دس آدمی ایک جگہ پر بھیجے۔مگر اُن لوگوں نے جن کی طرف وہ بھیجے گئے تھے دھوکا دے کر اُن پر حملہ کر دیا۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ اب اپنی جانوں پر کھیل جائیں گے تو انہوں نے کہا خدا کی قسم ! ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم نیچے اُتر آؤ ( وہ اُس وقت ایک پہاڑی ٹیلے پر چڑھے ہوئے تھے ) جو اُن کا لیڈر تھا اُس نے کہا میں تو ان کی باتوں پر اعتبار نہیں کر سکتا یہ لوگ جھوٹے اور دھوکا باز ہیں۔ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔چنانچہ وہیں لڑتے لڑتے مارا گیا۔باقیوں نے سمجھا کہ جب یہ لوگ قسمیں کھا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کہیں گے تو ہمیں اعتبار کرتے ہوئے نیچے اتر آنا چاہیئے۔جب وہ نیچے اُترے تو انہوں نے رسیاں باندھ کر ان کو گھسیٹنا شروع کر دیا۔اس پر پھر ان لوگوں نے مقابلہ کیا۔مگر وہ کیا کر سکتے تھے۔باقیوں کو تو انہوں نے مار دیا۔لیکن دو کو پکڑ کر مکہ لے۔