خطبات محمود (جلد 28) — Page 314
خطبات محمود 314 سال 1947ء کہ دشمن تم پر حملہ آور ہو جائے۔اس طرح گولڑائی نہ ہوتی تھی مگر لڑائی کی آواز میں ان کے کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔گو قوم خطرے میں گھری نہیں ہوتی تھی مگر خطرے میں گھر نے کا احتمال ہر وقت ان کے پیش نظر رہتا تھا۔اس لئے جنگی روح اس قوم کی زندہ رہتی تھی۔اس کے مقابلہ میں ہندوستان ڈیڑھ دو سو سال ایک غیر قوم کے ماتحت بظاہر امن میں رہا لیکن وہ امن ہندوستان کے افراد کی روح کو کچلنے والا تھا۔یوں انگلستان میں بھی امن تھا اور ہندوستان میں بھی امن تھا مگر انگلستان کے مدبر ہمیشہ انگلستان والوں کو ہوشیار کرتے رہتے ، ان کے اندر جنگی سپرٹ SPIRIT) پیدا کرتے رہتے اور انہیں بتاتے کہ قومی قربانیوں کے لئے تمہیں تیار رہنا چاہیئے۔مگر یہاں نہ صرف امن تھا بلکہ حکومت خود لوگوں کو سلاتی اور کہتی کہ تمہیں فکر کی کیا ضرورت ہے ہم تمہارا پہرہ دے رہے ہیں تم بے شک سو جاؤ۔اور جنگی خیالات پیدا ہونے کو وہ بداخلاقی اور بغاوت قرار دیتی۔گویا کچھ لوگوں کو قانون سے ڈرا کر اور کچھ لوگوں کو اخلاق سے ڈرا کر غفلت کی نیند سُلا دیا گیا۔پس ہم لوگوں کی ذہنیت ایک غیر طبعی ذہنیت ہے۔چنانچہ وہی چیزیں جو غیر ملکوں میں بالکل معمولی سمجھی جاتی ہیں ہمیں بہت زیادہ بھیانک اور ڈراؤنی معلوم ہوتی ہیں۔ہم میں سے جب کسی کی جائیداد تباہ ہوتی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر وہ آفت آئی ہے جس کی مثال اور کہیں نہیں مل سکتی۔حالانکہ ہماری زندگیوں میں دو دفعہ جرمن قوم کی جائیداد بالکل تباہ ہوئی ہے۔اور آٹھ دس سال میں ہی وہ گزشتہ جنگ کے بعد پھر کروڑ پتی بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بنی ہے۔وہ مرتے تھے مگر اپنا مرنا تسلیم نہیں کرتے تھے۔اور ہم مرنے سے پہلے ہی اپنی موت تسلیم کر لیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں ہوا ہی کرتی ہیں اگر ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو گیا تو کیا ہوا۔مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں نہیں ہوا کرتیں۔اس لئے بغیر اس کے کہ ہم مغلوب ہوں ہم اپنی کمر ہمت کو توڑ دیتے اور اپنی موت اور شکست کو تسلیم کر لیتے ہیں۔درحقیقت وہ غیر طبعی امن جو ہندوستان کو حاصل رہا نہ کبھی امن قائم کر سکتا ہے اور نہ علم قائم کر سکتا ہے۔نہ حوصلہ پیدا کر سکتا ہے نہ جرات اور بہادری پیدا کر سکتا ہے۔ورنہ ہمت والا انسان جاتا اور موت کے منہ میں اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ اسے موت سے بچا بھی لیتا ہے۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ قافلے آتے ہیں۔ان پر گولیاں چلتی ہیں۔لیکن باوجود اس کے کہ قافلہ والے تین تین چار چار ہزار بلکہ اس