خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 302

خطبات محمود 302 سال 1947ء یوں معلوم ہوا کہ اسلام کی محبت میری رگ رگ اور نس نس میں اثر کر گئی ہے۔پھر آپ نے ہاتھ اٹھایا اور کہا خدا تمہیں برکت دے، آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔اس پر میری یہ حالت ہوگئی کہ یا تو میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے آیا تھا اور یا آپ کی اس آواز کا ہے میرے کان میں پڑنا تھا کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ ساری دنیا میں صرف میرا ہی کام ہے کہ میں محمد امی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتا ہوا مارا جاؤں۔میں تلوار لے کر آگے بڑھا اور میں نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اتنے جوش کے ساتھ کیا کہ خدا کی قسم ! اگر اُس وقت میرا باپ بھی میرے سامنے آجاتا تو بغیر ایک لمحہ کا تو قف کئے میں اُسکی گردن اڑا دیتا 10۔تو دیکھو حنین کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے۔مگر آپ کے صحابہؓ فرار نہیں تھے بلکہ گوار تھے۔کیونکہ وہ پھر واپس آئے اور انہوں نے دشمن کو شکست دی۔چنانچہ جب صحابہ کی سواریاں ڈر کر بھاگ نکلیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے کہا۔عباس! اونچی آواز سے لوگوں کو پکارو اور ان سے کہو کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔چونکہ نو مسلموں کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہ کے گھوڑے اور اونٹ سخت ڈرے ہوئے تھے اور وہی میدانِ جنگ سے تیزی کے ساتھ بھاگ رہے تھے۔اس لئے صحابہ باوجود کوشش کے اپنی سواریوں کو روک نہ سکے۔وہ خود کہتے ہیں کہ ہمارے گھوڑے اور اونٹ اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ باوجود اس کے کہ ہم اُن کی باگیں پورے زور کے ساتھ کھینچتے تھے ، اتنے زور کے ساتھ کہ اُن کے منہ اُن کی پیٹھوں کو لگ جاتے پھر بھی جب ہم اُن کو ایڑی لگا کر واپس لانا چاہتے تو وہ بجائے واپس آنے کے مکہ کی طرف بھاگ پڑتے۔اُس وقت ہم بالکل بے بس نظر آ رہے تھے کہ تنے میں ہمارے کان میں حضرت عباس کی یہ آواز آئی کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔صحابہ کہتے ہیں جب یہ آواز ہمارے کانوں میں پہنچی اُس وقت ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ہم زندہ ہیں اور دنیا میں چل پھر رہے ہیں۔بلکہ ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم سب مر چکے ہیں، قیامت کا دن ہے ، صور اسرافیل پھونکا جا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی آواز ہمیں اپنی طرف بلا رہی ہے۔اس آواز کا آنا تھا کہ ہمارے دماغوں پر جو پردہ حائل تھا وہ یکدم دور ہو گیا۔اور ہم نے اپنی سواریوں کو پورے زور کے ساتھ واپس کو ٹایا۔بعض تو اپنی سواریوں کو موڑنے میں کامیاب