خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 274

خطبات محمود 274 سال 1947ء کامل نمونہ تھا ) میں نے خیال کیا کہ آپ اپنی دوسری بیویوں میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے۔اس خیال سے میں ہر ایک بیوی کے گھر گئی اور سب کے دروازے کھٹکھٹائے مگر۔و یہی جواب ملا کہ آپ یہاں نہیں ہیں۔آخر میں مسجد کے اندر گئی تو میں نے دیکھا کہ آپ سجدہ میں پڑے ہیں اور اس طرح نڈھال ہو رہے ہیں جیسے سخت کرب اور اضطراب میں ہیں۔میں نے سُنانی تو آپ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کر رہے تھے۔اللهمَّ سَجَدَ لَكَ سَوَادِيْ وَ خَيَالِيُّ آمَنَ بِكَ فُؤَادِي وَ أَقَرَّبِكَ لِسَانِى فَهَا أَنَا ذَابَيْنَ يَدَيْكَ يَا عَظِيمُ يَا غَافِرَ الذَّنْبِ الْعَظِيمِ۔جو لوگ عربی تھوڑی جانتے ہیں وہ اس کا لفظی ترجمہ کیا کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ صحیح معنوں پر حاوی نہیں ہو سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ اس دعا کے اندر بعض چیزیں محذوف ہیں۔اگر محذوف قصہ نکال دیا جائے تو اس کا مفہوم بالکل بدل جاتا ہے۔اس کے صحیح معنی یہ ہیں کہ اے میرے الله سَجَدَ لَكَ سَوَادِی وَ خَيَالِی میرا جسم تیرے سامنے حاضر ہے اور میرا سارا خیال تیرے حضور سجدہ میں گرا پڑا ہے۔وَ آمَنَ بِكَ فُوا دِی میرا دل تجھ پر ایمان رکھتا ہے۔وَ اقَرَّبِكَ لِسَانِی اور میری زبان تیرے احسانوں کا اقرار کرتی ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کہتا ہے کہ اے خدا! میرا جسم ، میرا خیال ، میرا دل اور میری زبان تیرے حضور حاضر ہیں تو اس اقرار کے بعد اُس پر بہت سی ذمہ داریاں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد ہو جاتی ہیں۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے چل کر فرماتے ہیں فَهَا اَنَا ذَابَيْنَ يَدَيْكَ - اے خدا ! ب ان اقراروں کے بعد جو ذمہ داریاں مجھ پر عائد ہوتی ہیں ممکن ہے میں ان ذمہ داریوں سے پوری طرح عہدہ برآنہ ہو سکوں اس لئے میں تیرے دربار میں ایک مجرم کے طور پر حاضر ہوائی ہوں۔اگر اس دعا میں سے محذوف نہ نکالے جائیں تو اس کے کوئی معنی ہی نہ ہو نگے۔اس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہوگا کہ اے خدا! میں نے تیرے سامنے سجدہ کیا۔اے خدا ! میں تجھ پر ایمان لایا۔اے خدا! میری زبان تیرا اقرار کرتی ہے۔اب اے عظیم خدا ! میں تیرے سامنے حاضر ہوں۔ان الفاظ کا تو کوئی مطلب ہی نہیں بنتا۔پس یہی معنی صحیح ہیں کہ اے میرے خدا! ان تمام اقراروں کے بعد جو ذمہ داریاں مجھ پر عائد ہوتی ہیں اُن کے بارہ میں ایک مجرم کی حیثیت میں تیرے دربار میں حاضر ہوا ہوں۔اے عالی مرتبت اور باعظمت خدا! میں تیرے سامنے گر گیا