خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 257

خطبات محمود 257 سال 1947ء دفعہ انسان اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے مگر وہ مومن ہوتا نہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلا آتا ہے اور اُسکی کمزوری کے پردہ کو چاک کر کے رکھ دیتا ہے اس وقت دنیا پر نہایت ہی نازک دن آرہے ہیں۔تم یقین رکھو کہ تم خود کچھ نہیں کر سکتے۔جو کچھ کر سکتا ہے خدا ہی کر سکتا ہے۔اور خدا تعالیٰ ہی تم کو وہ ایمان بخش سکتا ہے جو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط اور چٹانوں سے زیادہ راسخ ہو۔اور خدا تعالیٰ ہی ہے تم کو وہ قوت اقدام بخش سکتا ہے جو سمندروں کی لہروں سے بھی زیادہ بلند ہو۔پس خدا ہی کی طرف توجہ کرو اور اُس سے دعائیں کرو کہ اس نازک موقع پر تم اسلام کی شرمندگی کا موجب نہ بنو۔بلکہ تمہارے دلوں میں ایسی طاقت پیدا ہو جائے کہ موت تو کیا چیز ہے بڑے سے بڑے ابتلاء کو بھی تم کھیل سمجھنے لگ جاؤ۔تا کہ اگر ہم نے مرنا ہے تو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہنستے ہوئے مریں اور اُس کے نام کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مریں۔اور ہماری موتیں اسلام کی آئندہ ترقی کی بنیادیں نہایت مضبوطی سے گاڑ دینے والی اور اُس کے جھنڈے کو دنیا میں بلند کرنے والی ہوں۔“ (الفضل 8 /اگست 1947ء ) 1: " يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ (البقرة:20) 2: بھاگڑ : بھاگ دوڑ۔شکست۔بےسروسامانی سے بھاگنا۔:3 أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوج مُشَيَّدَةٍ (النساء :79)