خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 258

خطبات محمود 258 (28) سال 1947ء دُعائیں کرو، دُعائیں کرو اور دُعائیں کرو کہ اس سے زیادہ نازک وقت ہماری جماعت پر کبھی نہیں آیا فرمودہ 8 اگست 1947ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی وفات کے بعد مسجدوں کا انتظام نہایت ہی ناقص ہو گیا ہے۔اور میں ناظر اعلیٰ اور ناظر تعلیم و تربیت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں۔تعلیم و تربیت کے محکمہ نے غالباً ایسے آدمی اس کام کے لئے مقرر کئے ہیں جو خود بھی شاید مسجد میں نہیں آتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ گزشتہ ایام میں شام کی اذان اپنے وقت سے بہت پیچھے ہوتی رہی ہے۔لیکن اس میں تو کوئی حرج نہیں۔اگر روزہ وقت سے دس منٹ پیچھے کھول لیا جائے۔لیکن ساتھ یہ ہوا کہ ایک دن صبح کی اذان وقت سے ہیں منٹ پیچھے دی گئی جبکہ اچھی خاصی روشنی ہو چکی تھی۔وہ غریب جو یہ سمجھتے ہیں کہ اذان ہوئی تو روزہ کھول لیا اور اذان ہوئی تو روزہ رکھ لیا اُن سب کے روزے گئے آئے ہو گئے۔کیونکہ بیس منٹ گزرنے کے بعد روشنی ہو چکی تھی اور جنہوں نے اُس وقت سحری کھائی اُن کا روزہ کیا باقی رہ گیا۔پہلے ایک اچھا بھلا آدمی تھا۔صرف اس لئے کہ ایک موقع پر اُس نے سامنے سے جواب دے دیا اُسے نکال دیا گیا۔بے شک یہ اُس کی غلطی تھی کہ جب مسجد کے منتظم نے اُسے ایک کام کرنے کے لئے کہا تو اُس نے کہہ دیا کہ میں اس وقت نہیں کر سکتا۔لیکن محض اتنی سی بات پر فور اسکھا شاہی طریق پر عمل