خطبات محمود (جلد 28) — Page 251
خطبات محمود 251 (27) سال 1947ء قوم کی عزت ہزاروں اور لاکھوں جانوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے (فرمودہ یکم اگست 1947ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انفرادی اور اجتماعی کاموں میں ایک فرق ہوتا ہے۔اجتماعی کام باہمی مشق اور تنظیم کے محتاج ہوتے ہیں۔لیکن انفرادی کاموں میں اس قسم کی کوئی شرط نہیں ہوتی۔آجکل کے فتنوں کے زمانہ میں اجتماعی کاموں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے اور اجتماعی کام کرنے کی روح پیدا کرنے کی ضرورت بھی بہت بڑھ گئی ہے۔لیکن مجھے نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے پورے طور پر اس طرف توجہ نہیں کی اور نہ ہی پوری طرح اس کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔خدام الاحمدیہ کی جماعت اسی غرض کے لئے بنائی گئی تھی اور انصار اللہ کی جماعت بھی اسی غرض کے لئے بنائی گئی تھی کہ انفرادی اہلیت کے علاوہ اجتماعی کاموں کے کرنے کی اہلیت بھی جماعت کے اندر پیدا ہو جائے۔مگر مجھے نہایت افسوس اور ندامت کے ساتھ اُس واقعہ کا ذکر کرنا پڑتا ہے جو پچھلے جمعہ کو رونما ہوا اور جس میں جماعت کے درجنوں آدمیوں نے نہایت شرمناک نظارہ دکھایا۔ایسا شرمناک کہ اگر اُس فعل کو جماعتی فعل سمجھا جائے تو ہر احمدی اُس سے شرمندگی محسوس کرے گا۔شکر ہے کہ یہ جماعتی فعل نہیں۔اس کے نتیجہ میں جو اطلاعات اردگرد کے دیہات سے آ رہی ہیں اور جو باتیں ہم نے سنی ہیں وہ ایسی تکلیف دہ ہیں کہ انہیں سن کر پسینہ آ جاتا ہے۔قادیان کے ارد گرد کے گاؤں میں رہنے والے لوگ ہنستے ہیں اور مذاق اور طعنہ کے رنگ میں کہتے ہیں کہ یہ وہ جماعت ہے جو ساری دنیا کو فتح کرنے کے دعوے کیا کرتی ہے؟ مجھے یہاں کی جھ