خطبات محمود (جلد 28) — Page 252
خطبات محمود 252 سال 1947ء ایک ہندو عورت کی گفتگو پہنچی ہے۔اس نے ہماری عورتوں سے کہا کہ جب چھت گرنے سے دھما کا ہوا اور شور برپا ہو گیا تو پہلے ہم اپنے گھروں میں ٹھس گئے اور ہمارے مردوں نے دروازے بند کر کے ہاتھوں میں سونٹے پکڑ لئے۔یہ سمجھ کر کہ میرزائیوں نے ہم پر حملہ کر دیا ہے۔مگر اس کے بعد جب اُنہوں نے کواڑوں کے سوراخوں میں سے دیکھا تو کہا کہ میرزائی تو آپ بھاگتے جارہے ہیں ، اُنہوں نے کسی پر کیا حملہ کرنا ہے۔اب بھاگنے والے تو چند آدمی تھے۔مگر وہ منافق یا بز دل اپنا نام نہیں بتائیں گے۔اُن کی منافقت یا بزدلی کی وجہ سے بد نام ساری جماعت ہو گئی۔اور وہ لوگ جو دین کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لئے تیار ہیں ان بھاگنے والے بزدلوں کی وجہ سے اُن کے ذمہ بھی الزام لگ گیا اور ان لوگوں کی وجہ سے وہ بھی بدنام ہو گئے۔تمہارا فرض تھا کہ اس ہفتہ کے اندر اندر ایسے تمام مجرموں کا سراغ لگاتے اور ان کے نام لکھ کر مجھے اطلاع دیتے تاکہ پتہ لگ جاتا کہ جماعت میں سے کون کون بزدل یا منافق ہیں جو وقت آنے پر کچے دھاگے ثابت ہوں گے۔جن بزدلوں نے ایک چھت کے گرنے کو بم قرار دیا اور جو بم کے گرنے کے خیال سے بھاگ نکلے کیا کوئی جماعت ایسے نالائق آدمیوں پر اعتماد کر سکتی ہے؟ اور کیا اس قسم کے لوگ ادنیٰ قوموں میں بھی عزت حاصل کر سکتے ہیں؟ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تم نے یہ نظارہ دکھایا اور اس ہفتہ میں ایک بھی خط مجھے اس قسم کی اطلاع پر مشتمل نہیں پہنچا کہ فلاں فلاں آدمی ہماری موجودگی میں بھاگے تھے۔اب تمہیں چاہیئے کہ ان بھاگنے والوں میں سے ایک ایک کا پتہ لگاؤ۔اور جیسے طاعون کے چوہوں کو پکڑ پکڑ کر باہر نکالا جاتا ہے اسی طرح تم اِن بزدلوں کا کھوج لگا کر انہیں پکڑو اور ہمارے سامنے پیش کرو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم بھی اس بات کے مستحق ہو گے کہ یہ سیاہی کا داغ ان کے ساتھ ہی تمہارے ماتھوں پر بھی لگا رہے۔پس میں تمہیں پھر موقع دیتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے ایک گرنے والی چھت کو بم قرار دیا اُن کو پکڑو۔یہ لوگ اُن مظلوم عورتوں کی تکلیف کے بھی ذمہ دار ہیں جن کو مسجد کے منتظمین نے ظالمانہ طور پر ایک ایسی چھت پر بٹھا دیا جو آدمیوں کے بیٹھنے کے لئے نہیں بنائی گئی تھی۔بلکہ صرف عارضی طور پر سامان رکھنے کے لئے اور بارش کے ایام میں پانی کو روکنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ان لوگوں کے بھاگنے کی وجہ سے ان کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ گئی اور وہ