خطبات محمود (جلد 28) — Page 163
خطبات محمود 163 (16) سال 1947ء سلسلہ کی خدمت میں ہی سب سے بڑی عزت ہے فرمودہ 2 مئی 1947 ء) تشهد ، تعوّذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ حقیقی اسلام کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ انسان اپنی ساری طاقتوں کو اللہ تعالیٰ اور اُس کے دین کی خدمت میں لگا دے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سستی کی وجہ سے عام طور پر دینی خدمات سے بچنے کی کوش کرتے ہیں۔اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دین کی بعض قسم کی خدمات تو کر لیتے ہیں لیکن بعض قسم کی خدمات سے انہیں گریز ہوتا ہے۔جیسے کسی شاعر نے کہا ہے جاں طلبی مضائقہ نیست گر زر طلبی خن است دریس یعنی اگر جان مانگو تو مجھے اس کے دینے میں کوئی عذر نہیں۔لیکن اگر روپیہ مانگو تو اس کے دینے میں مجھے تامل ہے، لیکن بعض طبائع ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہ روپیہ سے تو دین کی خدمت کرنے کو تیار ہوتی ہیں لیکن جسمانی خدمت سے گریز کرتی ہیں۔زندگی وقف کرنے کے معاملہ میں مجھے کئی نوجوانوں کے رشتہ داروں کی طرف سے۔شکایت آتی رہتی ہے کہ فلاں نو جوان اچھی کمائی کر رہا ہے اگر اُسے کام سے ہٹا کر دین کی خدمت میں لگا دیا گیا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نہ صرف چالیس پچاس یا سو روپیہ ماہوار جو وہ سلسلہ کو دیا کرتا تھا بند ہو جائے گا بلکہ اس کے گزارہ کے لئے مزید خرچ کرنا پڑے گا۔اس لئے بہتر ہے کہ اس کی